النساء 4:94 يا ايها الذين امنوا اذا ضربتم في سبيل الله فتبينوا ولا تقولوا لمن القى اليكم السلام لست مومنا تبتغون عرض الحياة الدنيا فعند الله مغانم كثيرة كذالك كنتم من قبل فمن الله عليكم فتبينوا ان الله كان بما تعملون خبيرا ٩٤
یٰۤاَیُّهَا
الَّذِیْنَ
اٰمَنُوْۤا
اِذَا
ضَرَبْتُمْ
فِیْ
سَبِیْلِ
اللّٰهِ
فَتَبَیَّنُوْا
وَلَا
تَقُوْلُوْا
لِمَنْ
اَلْقٰۤی
اِلَیْكُمُ
السَّلٰمَ
لَسْتَ
مُؤْمِنًا ۚ
تَبْتَغُوْنَ
عَرَضَ
الْحَیٰوةِ
الدُّنْیَا ؗ
فَعِنْدَ
اللّٰهِ
مَغَانِمُ
كَثِیْرَةٌ ؕ
كَذٰلِكَ
كُنْتُمْ
مِّنْ
قَبْلُ
فَمَنَّ
اللّٰهُ
عَلَیْكُمْ
فَتَبَیَّنُوْا ؕ
اِنَّ
اللّٰهَ
كَانَ
بِمَا
تَعْمَلُوْنَ
خَبِیْرًا
۟
اے لوگوں جو ایمان لائے ہو، جب تم اللہ کی راہ میں جہاد کے لیے نکلو تو دوست دشمن میں تمیز کرو اور جو تمہاری طرف سلام سے تقدیم کرے اسے فوراً نہ کہدو کہ تُو مومن نہیں ہے۔1 اگر تم دُنیوی فائدہ چاہتے ہو تو اللہ کے پاس تمہارے لیے بہت سے اموال غنیمت ہیں۔ آخر اسی حالت میں تم خود بھی تو اس سے پہلے مبتلا رہ چکے ہو، پھر اللہ نے تم پر احسان کیا ،2 لہٰذا تحقیق سے کام لو ، جو کچھ تم کرتے ہو اللہ اس سے باخبر ہے
تفسیر پڑھیں
تفسیر ابنِ کثیر
مسلمان کے ہاتھوں مسلمان کا قتل ناقابل معافی جرم ہے ٭٭…
ترمذوی وغیرہ کی ایک حدیث میں ہے کہ بنو سلیم کا ایک شخص بکریاں چراتا ہوا صحابہ کی ایک جمات کے پاس سے گذرا اور سلام کیا تو صحابہ آپس میں کہنے لگے یہ مسلمان تو ہے نہیں صرف اپنی جان بچانے کے لیے سلام کرتا ہے چنانچہ اسے قتل کر دیا اور بکریاں لے کر چلے
مسلمان کے ہاتھوں مسلمان کا قتل ناقابل معافی جرم ہے ٭٭…
ترمذوی وغیرہ کی ایک حدیث میں ہے کہ بنو سلیم کا ایک شخص بکریاں چراتا ہوا صحابہ کی ایک جمات کے پاس