النساء 4:90 الا الذين يصلون الى قوم بينكم وبينهم ميثاق او جاءوكم حصرت صدورهم ان يقاتلوكم او يقاتلوا قومهم ولو شاء الله لسلطهم عليكم فلقاتلوكم فان اعتزلوكم فلم يقاتلوكم والقوا اليكم السلم فما جعل الله لكم عليهم سبيلا ٩٠
اِلَّا
الَّذِیْنَ
یَصِلُوْنَ
اِلٰی
قَوْمٍ
بَیْنَكُمْ
وَبَیْنَهُمْ
مِّیْثَاقٌ
اَوْ
جَآءُوْكُمْ
حَصِرَتْ
صُدُوْرُهُمْ
اَنْ
یُّقَاتِلُوْكُمْ
اَوْ
یُقَاتِلُوْا
قَوْمَهُمْ ؕ
وَلَوْ
شَآءَ
اللّٰهُ
لَسَلَّطَهُمْ
عَلَیْكُمْ
فَلَقٰتَلُوْكُمْ ۚ
فَاِنِ
اعْتَزَلُوْكُمْ
فَلَمْ
یُقَاتِلُوْكُمْ
وَاَلْقَوْا
اِلَیْكُمُ
السَّلَمَ ۙ
فَمَا
جَعَلَ
اللّٰهُ
لَكُمْ
عَلَیْهِمْ
سَبِیْلًا
۟
مگر جو لوگ ایسے لوگوں سے جا ملے ہوں جن میں اور تم میں (صلح کا) عہد ہو یا اس حال میں کہ ان کے دل تمہارے ساتھ یا اپنی قوم کے ساتھ لڑنے سے رک گئے ہوں تمہارے پاس آجائیں (تو احتراز ضروری نہیں) اور اگر خدا چاہتا تو ان کو تم پر غالب کردیتا تو وہ تم سے ضرور لڑتے پھر اگر وہ تم سے (جنگ کرنے سے) کنارہ کشی کریں اور لڑیں نہیں اور تمہاری طرف صلح (کا پیغام) بھیجیں تو خدا نے تمہارے لئے ان پر (زبردستی کرنے کی) کوئی سبیل مقرر نہیں کی
تفسیر پڑھیں
Tafsir Ibn Kathir
باب…
پھر ان میں سے ان حضرات کا استثنا کیا جاتا ہے جو کسی ایسی قوم کی پناہ میں چلے جائیں جس سے مسلمانوں کا عہد و پیمان صلح و سلوک ہو تو ان کا حکم بھی وہی ہو گا جو معاہدہ والی قوم کا ہے، سیدنا سراقہ بن مالک مدلجی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں جب جنگ بدر اور جنگ احد میں مسلمان غالب آئے اور آس پاس کے لوگوں میں
باب…
پھر ان میں سے ان حضرات کا استثنا کیا جاتا ہے جو کسی ایسی قوم کی پناہ میں چلے جائیں جس سے مسلمانوں کا عہد و پیمان صلح و سلوک ہو تو ان کا حکم بھی وہی