النساء 4:88 ۞ فما لكم في المنافقين فيتين والله اركسهم بما كسبوا اتريدون ان تهدوا من اضل الله ومن يضلل الله فلن تجد له سبيلا ٨٨
فَمَا
لَكُمْ
فِی
الْمُنٰفِقِیْنَ
فِئَتَیْنِ
وَاللّٰهُ
اَرْكَسَهُمْ
بِمَا
كَسَبُوْا ؕ
اَتُرِیْدُوْنَ
اَنْ
تَهْدُوْا
مَنْ
اَضَلَّ
اللّٰهُ ؕ
وَمَنْ
یُّضْلِلِ
اللّٰهُ
فَلَنْ
تَجِدَ
لَهٗ
سَبِیْلًا
۟
” پھر تم کو کیا ہوا کہ منافقوں کے بارے میں دو فریق ہو رہے ہیں ‘ اور اللہ نے تو ان کو ان کے اعمال کے سبب الٹ دیا ہے ‘ کیا تم ان لوگوں کو راہ پر لانا چاہتے ہو جن کو اللہ نے گمراہ کردیا ہے اور جس کو اللہ نے گمراہ کیا تم اس کے لئے کوئی راہ نہ پاؤ گے ‘
تفسیر پڑھیں
تفسیر ابنِ کثیر
منافقوں سے ہوشیار رہو ٭٭…
اس میں اختلاف ہے کہ منافقوں کے کس معاملہ میں مسلمانوں کے درمیان دو قسم کے خیالات داخل ہوئے تھے، سیدنا زید بن ثابت رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب میدان احد میں تشریف لے گئے تب آپ کے ساتھ منافق بھی تھے جو جنگ سے پہلے ہی واپس لوٹ آئے تھے ان کے بارے
منافقوں سے ہوشیار رہو ٭٭…
اس میں اختلاف ہے کہ منافقوں کے کس معاملہ میں مسلمانوں کے درمیان دو قسم کے خیالات داخل ہوئے تھے، سیدنا زید بن ثابت رضی اللہ عنہ