النساء 4:65 فلا وربك لا يومنون حتى يحكموك فيما شجر بينهم ثم لا يجدوا في انفسهم حرجا مما قضيت ويسلموا تسليما ٦٥
فَلَا
وَرَبِّكَ
لَا
یُؤْمِنُوْنَ
حَتّٰی
یُحَكِّمُوْكَ
فِیْمَا
شَجَرَ
بَیْنَهُمْ
ثُمَّ
لَا
یَجِدُوْا
فِیْۤ
اَنْفُسِهِمْ
حَرَجًا
مِّمَّا
قَضَیْتَ
وَیُسَلِّمُوْا
تَسْلِیْمًا
۟
پس تیرے رب کی قسم، وہ کبھی ایمان والے نہیں ہوسکتے جب تک وہ اپنے باہمی جھگڑے میں تم کو فیصلہ کرنے والا نہ مان لیں پھر جو فیصلہ تم کرو، اس پر وہ اپنے دلوں میں کوئی تنگی نہ پائیں اور اس کو خوشی سے قبول کرلیں
تفسیر پڑھیں
تفسیر ابنِ کثیر
اطاعت رسول صلی اللہ علیہ وسلم ہی ضامن نجات ہے ٭٭…
مطلب یہ ہے کہ ہر زمانہ کے رسول کی تابعداری اس کی امت پر اللہ کی طرف سے فرض ہوتی ہے منصب رسالت یہی ہے کہ اس کے سبھی احکامات کو اللہ کے احکام سمجھا جائے، مجاہد رحمہ اللہ فرماتے ہیں «باذن اللہ» سے یہ مراد ہے کہ اس کی توفیق اللہ تعالیٰ کے ہاتھ ہے اس کی ق
اطاعت رسول صلی اللہ علیہ وسلم ہی ضامن نجات ہے ٭٭…
مطلب یہ ہے کہ ہر زمانہ کے رسول کی تابعداری اس کی امت پر اللہ کی طرف سے فرض ہوتی ہے منصب رسالت یہی ہے ک