وَلَوْ
اَنَّا
كَتَبْنَا
عَلَیْهِمْ
اَنِ
اقْتُلُوْۤا
اَنْفُسَكُمْ
اَوِ
اخْرُجُوْا
مِنْ
دِیَارِكُمْ
مَّا
فَعَلُوْهُ
اِلَّا
قَلِیْلٌ
مِّنْهُمْ ؕ
وَلَوْ
اَنَّهُمْ
فَعَلُوْا
مَا
یُوْعَظُوْنَ
بِهٖ
لَكَانَ
خَیْرًا
لَّهُمْ
وَاَشَدَّ
تَثْبِیْتًا
۟ۙ
اگر ہم نے انہیں حکم دیا ہوتا کہ اپنے آپ کو ہلاک کردو یا اپنے گھروں سے نکل جاوٴ تو ان میں سے کم ہی آدمی اس پر عمل کرتے۔ 1حالانکہ جو نصیحت انہیں کی جاتی ہے اگر یہ اس پر عمل کرتے تو یہ ان کے لیے زیادہ بہتری اور زیادہ ثابت قدمی کا موجب ہوتا2
تفسیر پڑھیں
تفسیر ابنِ کثیر
عادت جب فطرت ثانیہ بن جائے اور صاحب ایمان کو بشارت رفاقت ٭٭…
اللہ خبر دیتا ہے کہ اکثر لوگ ایسے ہیں کہ اگر انہیں ان منع کردہ کاموں کا بھی حکم دیا جاتا جنہیں وہ اس وقت کر رہے ہیں تو وہ ان کاموں کو بھی نہ کرتے اس لیے کہ ان کی ذلیل طبیعتیں حکم الہٰی کی مخالفت پر ہی استوار ہوئی ہیں، پس اللہ تعالیٰ نے اس حق
عادت جب فطرت ثانیہ بن جائے اور صاحب ایمان کو بشارت رفاقت ٭٭…
اللہ خبر دیتا ہے کہ اکثر لوگ ایسے ہیں کہ اگر انہیں ان منع کردہ کاموں کا بھی حکم دیا جاتا جن