النساء 4:62 فكيف اذا اصابتهم مصيبة بما قدمت ايديهم ثم جاءوك يحلفون بالله ان اردنا الا احسانا وتوفيقا ٦٢
فَكَیْفَ
اِذَاۤ
اَصَابَتْهُمْ
مُّصِیْبَةٌ
بِمَا
قَدَّمَتْ
اَیْدِیْهِمْ
ثُمَّ
جَآءُوْكَ
یَحْلِفُوْنَ ۖۗ
بِاللّٰهِ
اِنْ
اَرَدْنَاۤ
اِلَّاۤ
اِحْسَانًا
وَّتَوْفِیْقًا
۟
تو کیسی (ندامت کی) بات ہے کہ جب ان کے اعمال (کی شامت سے) ان پر کوئی مصیبت واقع ہوتی ہے تو تمہارے پاس بھاگے آتے ہیں اور قسمیں کھاتے ہیں کہ والله ہمارا مقصود تو بھلائی اور موافقت تھا
تفسیر پڑھیں
Tafsir Ibn Kathir
باب…
پھر منافقوں کی مذمت میں بیان ہو رہا ہے کہ ان کے گناہوں کے باعث جب تکلیفیں پہنچتی ہیں اور تیری ضرورت محسوس ہوتی ہے تو دوڑے بھاگے آتے ہیں اور تمہیں خوش کرنے کے لیے عذر معذرت کرنے بیٹھ جاتے ہیں اور قسمیں کھا کر اپنی نیکی اور صلاحیت کا یقین دلانا چاہتے ہیں اور کہتے ہیں کہ آپ کے سوا دوسروں کی طرف ان م
باب…
پھر منافقوں کی مذمت میں بیان ہو رہا ہے کہ ان کے گناہوں کے باعث جب تکلیفیں پہنچتی ہیں اور تیری ضرورت محسوس ہوتی ہے تو دوڑے بھاگے آتے ہیں اور تمہیں خ