النساء 4:6 وابتلوا اليتامى حتى اذا بلغوا النكاح فان انستم منهم رشدا فادفعوا اليهم اموالهم ولا تاكلوها اسرافا وبدارا ان يكبروا ومن كان غنيا فليستعفف ومن كان فقيرا فلياكل بالمعروف فاذا دفعتم اليهم اموالهم فاشهدوا عليهم وكفى بالله حسيبا ٦
وَابْتَلُوا
الْیَتٰمٰی
حَتّٰۤی
اِذَا
بَلَغُوا
النِّكَاحَ ۚ
فَاِنْ
اٰنَسْتُمْ
مِّنْهُمْ
رُشْدًا
فَادْفَعُوْۤا
اِلَیْهِمْ
اَمْوَالَهُمْ ۚ
وَلَا
تَاْكُلُوْهَاۤ
اِسْرَافًا
وَّبِدَارًا
اَنْ
یَّكْبَرُوْا ؕ
وَمَنْ
كَانَ
غَنِیًّا
فَلْیَسْتَعْفِفْ ۚ
وَمَنْ
كَانَ
فَقِیْرًا
فَلْیَاْكُلْ
بِالْمَعْرُوْفِ ؕ
فَاِذَا
دَفَعْتُمْ
اِلَیْهِمْ
اَمْوَالَهُمْ
فَاَشْهِدُوْا
عَلَیْهِمْ ؕ
وَكَفٰی
بِاللّٰهِ
حَسِیْبًا
۟
اور یتمیوں کو بالغ ہونے تک کام کاج میں مصروف رکھو پھر (بالغ ہونے پر) اگر ان میں عقل کی پختگی دیکھو تو ان کا مال ان کے حوالے کردو اور اس خوف سے کہ وہ بڑے ہوجائیں گے (یعنی بڑے ہو کر تم سے اپنا مال واپس لے لیں گے) اس کو فضول خرچی اور جلدی میں نہ اڑا دینا۔ جو شخص آسودہ حال ہو اس کو (ایسے مال سے قطعی طور پر) پرہیز رکھنا چاہیئے اور جو بے مقدور ہو وہ مناسب طور پر (یعنی بقدر خدمت) کچھ لے لے اور جب ان کا مال ان کے حوالے کرنے لگو تو گواہ کرلیا کرو۔ اور حقیقت میں تو خدا ہی (گواہ اور) حساب لینے والا کافی ہے
تفسیر پڑھیں
تفسیر ابنِ کثیر
کم عقل اور یتیموں کے بارہ میں احکامات ٭٭…
اللہ سبحانہ و تعالیٰ لوگوں کو منع فرماتا ہے کہ کم عقل بیویوں کو مال کے تصرف سے روکیں، مال کو اللہ تعالیٰ نے تجارتوں وغیرہ میں لگا کر انسان کا ذریعہ معاش بنایا ہے، اس سے معلوم ہوا کہ کم عقل لوگوں کو ان کے مال کے خرچ سے روک دینا چاہیئے، مثلاً نابالغ بچہ ہو یا مج
کم عقل اور یتیموں کے بارہ میں احکامات ٭٭…
اللہ سبحانہ و تعالیٰ لوگوں کو منع فرماتا ہے کہ کم عقل بیویوں کو مال کے تصرف سے روکیں، مال کو اللہ تعالیٰ نے تج