مِنَ
الَّذِیْنَ
هَادُوْا
یُحَرِّفُوْنَ
الْكَلِمَ
عَنْ
مَّوَاضِعِهٖ
وَیَقُوْلُوْنَ
سَمِعْنَا
وَعَصَیْنَا
وَاسْمَعْ
غَیْرَ
مُسْمَعٍ
وَّرَاعِنَا
لَیًّا
بِاَلْسِنَتِهِمْ
وَطَعْنًا
فِی
الدِّیْنِ ؕ
وَلَوْ
اَنَّهُمْ
قَالُوْا
سَمِعْنَا
وَاَطَعْنَا
وَاسْمَعْ
وَانْظُرْنَا
لَكَانَ
خَیْرًا
لَّهُمْ
وَاَقْوَمَ ۙ
وَلٰكِنْ
لَّعَنَهُمُ
اللّٰهُ
بِكُفْرِهِمْ
فَلَا
یُؤْمِنُوْنَ
اِلَّا
قَلِیْلًا
۟
جو لوگ یہودی بن گئے ہیں1 اُن میں کچھ لوگ ہیں جو الفاظ کو اُن کے محل سے پھیردیتے ہیں،2 اور دینِ حق کے خلاف نیش زنی کرنے کے لیے اپنی زبانوں کو توڑ موڑ کر کہتے ہیں سَمِعْنَا وَ عَصَیْنَا 3اور اِسمَعْ غَیْرَ مُسْمَعٍ4 اور رَاعِنَا5۔ حالانکہ اگر وہ کہتے سَمِعْنَا وَ اَطَعْنَا، اور اِسمَعْ اور اُنْظُرْنَا تو یہ انہی کے لیے بہتر تھا اور زیادہ راستبازی کا طریقہ تھا۔ مگر ان پر تو ان کی باطل پرستی کی بدولت اللہ کی پِھٹکار پڑی ہوئی ہے اس لیے وہ کم ہی ایمان لاتے ہیں
تفسیر پڑھیں
تفسیر ابنِ کثیر
یہودیوں کی ایک مذموم خصلت ٭٭…
اللہ تبارک وتعالیٰ بیان فرماتا ہے کہ یہودیوں کی ایک مذموم خصلت یہ بھی ہے کہ وہ گمراہی کو ہدایت پر ترجیح دیتے ہیں، نبی آخر الزماں صلی اللہ علیہ وسلم پر جو کتاب نازل ہوئی اس سے بھی روگردانی کرتے ہیں اور اللہ کا دیا ہوا جو علم ان کے پاس ہے اسے بھی پس پشت ڈال دیتے ہیں خود ا
یہودیوں کی ایک مذموم خصلت ٭٭…
اللہ تبارک وتعالیٰ بیان فرماتا ہے کہ یہودیوں کی ایک مذموم خصلت یہ بھی ہے کہ وہ گمراہی کو ہدایت پر ترجیح دیتے ہیں، نبی آخر