یٰۤاَیُّهَا
الَّذِیْنَ
اٰمَنُوْا
لَا
تَقْرَبُوا
الصَّلٰوةَ
وَاَنْتُمْ
سُكٰرٰی
حَتّٰی
تَعْلَمُوْا
مَا
تَقُوْلُوْنَ
وَلَا
جُنُبًا
اِلَّا
عَابِرِیْ
سَبِیْلٍ
حَتّٰی
تَغْتَسِلُوْا ؕ
وَاِنْ
كُنْتُمْ
مَّرْضٰۤی
اَوْ
عَلٰی
سَفَرٍ
اَوْ
جَآءَ
اَحَدٌ
مِّنْكُمْ
مِّنَ
الْغَآىِٕطِ
اَوْ
لٰمَسْتُمُ
النِّسَآءَ
فَلَمْ
تَجِدُوْا
مَآءً
فَتَیَمَّمُوْا
صَعِیْدًا
طَیِّبًا
فَامْسَحُوْا
بِوُجُوْهِكُمْ
وَاَیْدِیْكُمْ ؕ
اِنَّ
اللّٰهَ
كَانَ
عَفُوًّا
غَفُوْرًا
۟
اے لوگو جو ایمان لائے ہو، جب تم نشے کی حالت میں ہو تو نماز کے قریب نہ جاوٴ۔1 نماز اُس وقت پڑھنی چاہیے جب تم جانو کہ کیا کہہ رہے ہو۔2 اور اسی طرح جَنابت کی حالت3 میں بھی نماز کے قریب نہ جاوٴ جب تک کہ غسل نہ کرلو، اِلّا یہ کہ راستہ سے گزرتے ہو۔4 اور اگر کبھی ایسا ہو کہ تم بیمار ہو، یا سفر میں ہو، یا تم میں سے کوئی شخص رفع حاجت کرکے آئے، یا تم نے عورتوں سے لَمس کیا ہو،5 اور پھر پانی نہ ملے تو پاک مٹی سے کام لو اور اس سے اپنے چہروں اور ہاتھوں پر مسح کرلو،6 بے شک اللہ نرمی سے کام لینے والا اور بخشش فرمانے والا ہے
تفسیر پڑھیں
تفسیر ابنِ کثیر
بتدریج حرمت شراب اور پس منظر ٭٭…
اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے ایماندار بندوں کو نشے کی حالت میں نماز پڑھنے سے روک رہا ہے کیونکہ اس وقت نمازی کو معلوم ہی نہیں ہوتا کہ وہ کیا کہہ رہا ہے اور ساتھ ہی محل نماز یعنی مسجد میں آنے سے روکا جا رہا ہے اور ساتھ جنبی شخص جسے نہانے کی حاجت ہو محل نماز یعنی مسجد میں آنے
بتدریج حرمت شراب اور پس منظر ٭٭…
اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے ایماندار بندوں کو نشے کی حالت میں نماز پڑھنے سے روک رہا ہے کیونکہ اس وقت نمازی کو معلوم ہی نہی