النساء 4:25 ومن لم يستطع منكم طولا ان ينكح المحصنات المومنات فمن ما ملكت ايمانكم من فتياتكم المومنات والله اعلم بايمانكم بعضكم من بعض فانكحوهن باذن اهلهن واتوهن اجورهن بالمعروف محصنات غير مسافحات ولا متخذات اخدان فاذا احصن فان اتين بفاحشة فعليهن نصف ما على المحصنات من العذاب ذالك لمن خشي العنت منكم وان تصبروا خير لكم والله غفور رحيم ٢٥
وَمَنْ
لَّمْ
یَسْتَطِعْ
مِنْكُمْ
طَوْلًا
اَنْ
یَّنْكِحَ
الْمُحْصَنٰتِ
الْمُؤْمِنٰتِ
فَمِنْ
مَّا
مَلَكَتْ
اَیْمَانُكُمْ
مِّنْ
فَتَیٰتِكُمُ
الْمُؤْمِنٰتِ ؕ
وَاللّٰهُ
اَعْلَمُ
بِاِیْمَانِكُمْ ؕ
بَعْضُكُمْ
مِّنْ
بَعْضٍ ۚ
فَانْكِحُوْهُنَّ
بِاِذْنِ
اَهْلِهِنَّ
وَاٰتُوْهُنَّ
اُجُوْرَهُنَّ
بِالْمَعْرُوْفِ
مُحْصَنٰتٍ
غَیْرَ
مُسٰفِحٰتٍ
وَّلَا
مُتَّخِذٰتِ
اَخْدَانٍ ۚ
فَاِذَاۤ
اُحْصِنَّ
فَاِنْ
اَتَیْنَ
بِفَاحِشَةٍ
فَعَلَیْهِنَّ
نِصْفُ
مَا
عَلَی
الْمُحْصَنٰتِ
مِنَ
الْعَذَابِ ؕ
ذٰلِكَ
لِمَنْ
خَشِیَ
الْعَنَتَ
مِنْكُمْ ؕ
وَاَنْ
تَصْبِرُوْا
خَیْرٌ
لَّكُمْ ؕ
وَاللّٰهُ
غَفُوْرٌ
رَّحِیْمٌ
۟۠
اور جو شخص تم میں سے مومن آزاد عورتوں (یعنی بیبیوں) سے نکاح کرنے کا مقدور نہ رکھے تو مومن لونڈیوں میں ہی جو تمہارے قبضے میں آگئی ہوں (نکاح کرلے) اور خدا تمہارے ایمان کو اچھی طرح جانتا ہے تم آپس میں ایک دوسرے کے ہم جنس ہو تو ان لونڈیوں کے ساتھ ان کے مالکوں سے اجازت حاصل کرکے نکاح کر لو اور دستور کے مطابق ان کا مہر بھی ادا کردو بشرطیکہ عفیفہ ہوں نہ ایسی کہ کھلم کھلا بدکاری کریں اور نہ درپردہ دوستی کرنا چاہیں پھر اگر نکاح میں آکر بدکاری کا ارتکاب کر بیٹھیں تو جو سزا آزاد عورتوں (یعنی بیبیوں) کے لئے ہے اس کی آدھی ان کو (دی جائے) یہ (لونڈی کے ساتھ نکاح کرنے کی) اجازت اس شخص کو ہے جسے گناہ کر بیٹھنے کا اندیشہ ہو اور اگر صبر کرو تو یہ تمہارے لئے بہت اچھا ہے اور خدا بخشنے والا مہربان ہے
تفسیر پڑھیں
تفسیر ابنِ کثیر
آزاد عورتوں سے نکاح اور کنیزوں سے متعلق ہدایات ٭٭…
ارشاد ہوتا ہے کہ جسے آزاد مسلمان عورتوں سے نکاح کرنے کی وسعت قدرت نہ ہو، ربیعہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں «طول» سے مراد قصد و خواہش یعنی لونڈی سے نکاح کی خواہش، ابن جریر رحمہ اللہ نے اس قول کو وارد کر کے پھر اسے خود ہی توڑ دیا ہے، مطلب یہ کہ ایسے حالات می
آزاد عورتوں سے نکاح اور کنیزوں سے متعلق ہدایات ٭٭…
ارشاد ہوتا ہے کہ جسے آزاد مسلمان عورتوں سے نکاح کرنے کی وسعت قدرت نہ ہو، ربیعہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں