النساء 4:23 حرمت عليكم امهاتكم وبناتكم واخواتكم وعماتكم وخالاتكم وبنات الاخ وبنات الاخت وامهاتكم اللاتي ارضعنكم واخواتكم من الرضاعة وامهات نسايكم وربايبكم اللاتي في حجوركم من نسايكم اللاتي دخلتم بهن فان لم تكونوا دخلتم بهن فلا جناح عليكم وحلايل ابنايكم الذين من اصلابكم وان تجمعوا بين الاختين الا ما قد سلف ان الله كان غفورا رحيما ٢٣
حُرِّمَتْ
عَلَیْكُمْ
اُمَّهٰتُكُمْ
وَبَنٰتُكُمْ
وَاَخَوٰتُكُمْ
وَعَمّٰتُكُمْ
وَخٰلٰتُكُمْ
وَبَنٰتُ
الْاَخِ
وَبَنٰتُ
الْاُخْتِ
وَاُمَّهٰتُكُمُ
الّٰتِیْۤ
اَرْضَعْنَكُمْ
وَاَخَوٰتُكُمْ
مِّنَ
الرَّضَاعَةِ
وَاُمَّهٰتُ
نِسَآىِٕكُمْ
وَرَبَآىِٕبُكُمُ
الّٰتِیْ
فِیْ
حُجُوْرِكُمْ
مِّنْ
نِّسَآىِٕكُمُ
الّٰتِیْ
دَخَلْتُمْ
بِهِنَّ ؗ
فَاِنْ
لَّمْ
تَكُوْنُوْا
دَخَلْتُمْ
بِهِنَّ
فَلَا
جُنَاحَ
عَلَیْكُمْ ؗ
وَحَلَآىِٕلُ
اَبْنَآىِٕكُمُ
الَّذِیْنَ
مِنْ
اَصْلَابِكُمْ ۙ
وَاَنْ
تَجْمَعُوْا
بَیْنَ
الْاُخْتَیْنِ
اِلَّا
مَا
قَدْ
سَلَفَ ؕ
اِنَّ
اللّٰهَ
كَانَ
غَفُوْرًا
رَّحِیْمًا
۟ۙ
تم پر تمہاری مائیں اور بیٹیاں اور بہنیں اور پھوپھیاں اور خالائیں اور بھتیجیاں اور بھانجیاں اور وہ مائیں جنہوں نے تم کو دودھ پلایا ہو اور رضاعی بہنیں اور ساسیں حرام کر دی گئی ہیں اور جن عورتوں سے تم مباشرت کر چکے ہو ان کی لڑکیاں جنہیں تم پرورش کرتے (ہو وہ بھی تم پر حرام ہیں) ہاں اگر ان کے ساتھ تم نے مباشرت نہ کی ہو تو (ان کی لڑکیوں کے ساتھ نکاح کر لینے میں) تم پر کچھ گناہ نہیں اور تمہارے صلبی بیٹوں کی عورتیں بھی اور دو بہنوں کا اکٹھا کرنا بھی (حرام ہے) مگر جو ہو چکا (سو ہو چکا) بے شک خدا بخشنے والا (اور) رحم کرنے والا ہے
تفسیر پڑھیں
تفسیر ابنِ کثیر
کون سی عورتیں مردوں پر حرام ہیں؟ ٭٭…
نسبی، رضاعی اور سسرالی رشتے سے جو عورتیں مرد پر حرام ہیں ان کا بیان آیت کریمہ میں ہو رہا ہے، سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں سات عورتیں بوجہ نسب حرام ہیں اور سات بوجہ سسرال کے پھر آپ نے اس آیت کی تلاوت کی جس میں بہن کی لڑکیوں تک نسبی رشتوں کا ذکر ہے ۔ [تف
کون سی عورتیں مردوں پر حرام ہیں؟ ٭٭…
نسبی، رضاعی اور سسرالی رشتے سے جو عورتیں مرد پر حرام ہیں ان کا بیان آیت کریمہ میں ہو رہا ہے، سیدنا ابن عباس رضی الل