النساء 4:20 وان اردتم استبدال زوج مكان زوج واتيتم احداهن قنطارا فلا تاخذوا منه شييا اتاخذونه بهتانا واثما مبينا ٢٠
وَاِنْ
اَرَدْتُّمُ
اسْتِبْدَالَ
زَوْجٍ
مَّكَانَ
زَوْجٍ ۙ
وَّاٰتَیْتُمْ
اِحْدٰىهُنَّ
قِنْطَارًا
فَلَا
تَاْخُذُوْا
مِنْهُ
شَیْـًٔا ؕ
اَتَاْخُذُوْنَهٗ
بُهْتَانًا
وَّاِثْمًا
مُّبِیْنًا
۟
اور اگر تم ایک بیوی کی جگہ دوسری بیوی لے آنے کا ارادہ ہی کر لو تو خواہ تم نے اُسے ڈھیر سا مال ہی کیوں نہ دیا ہو، اس میں سے کچھ واپس نہ لینا کیا تم اُسے بہتان لگا کر اور صریح ظلم کر کے واپس لو گے؟
تفسیر پڑھیں
تفسیر ابنِ کثیر
عورت پر ظلم کا خاتمہ ٭٭…
صحیح بخاری میں ہے سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ قبل اسلام جب کوئی شخص مر جاتا ہے تو اس کے وارث اس کی عورت کے پورے حقدار سمجھے جاتے اگر ان میں سے کوئی چاہتا تو اپنے نکاح میں لے لیتا اگر وہ چاہتے تو دوسرے کسی کے نکاح میں دے دیتے اگر چاہتے تو نکاح ہی نہ کرنے دیتے می
عورت پر ظلم کا خاتمہ ٭٭…
صحیح بخاری میں ہے سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ قبل اسلام جب کوئی شخص مر جاتا ہے تو اس کے وارث اس کی عورت کے پورے