فَاَمَّا
الَّذِیْنَ
اٰمَنُوْا
وَعَمِلُوا
الصّٰلِحٰتِ
فَیُوَفِّیْهِمْ
اُجُوْرَهُمْ
وَیَزِیْدُهُمْ
مِّنْ
فَضْلِهٖ ۚ
وَاَمَّا
الَّذِیْنَ
اسْتَنْكَفُوْا
وَاسْتَكْبَرُوْا
فَیُعَذِّبُهُمْ
عَذَابًا
اَلِیْمًا ۙ۬
وَّلَا
یَجِدُوْنَ
لَهُمْ
مِّنْ
دُوْنِ
اللّٰهِ
وَلِیًّا
وَّلَا
نَصِیْرًا
۟
Us waqt woh log jinhon ne iman laa kar neik tarz e amal iktiyar kiya hai apne ajar poorey poorey payenge aur Allah apne fazal se unko mazeed ajar ata farmayega. Aur jin logon ne bandagi ko aar samjha aur takabbur kiya hai unko Allah dardnaak saza dega aur Allah ke siwa jin jin ki sarparasti o madadgaari par woh bharosa rakhte hain unmein se kisi ko bhi woh wahan na payenge
تفسیر پڑھیں
تفسیر ابنِ کثیر
اس کی گرفت سے فرار ناممکن ہے! ٭٭…
مطلب یہ ہے کہ مسیح علیہ السلام اور اعلیٰ ترین فرشتے بھی اللہ کی بندگی سے انکار اور فرار نہیں کر سکتے، نہ یہ ان کی شان کے لائق ہے بلکہ جو جتنا مرتبے میں قریب ہوتا ہے، وہ اسی قدر اللہ کی عبادت میں زیادہ پابند ہوتا ہے۔ بعض لوگوں نے اس آیت سے استدلال کیا ہے کہ فرشتے انسان
اس کی گرفت سے فرار ناممکن ہے! ٭٭…
مطلب یہ ہے کہ مسیح علیہ السلام اور اعلیٰ ترین فرشتے بھی اللہ کی بندگی سے انکار اور فرار نہیں کر سکتے، نہ یہ ان کی شان