النساء 4:17 انما التوبة على الله للذين يعملون السوء بجهالة ثم يتوبون من قريب فاولايك يتوب الله عليهم وكان الله عليما حكيما ١٧
اِنَّمَا
التَّوْبَةُ
عَلَی
اللّٰهِ
لِلَّذِیْنَ
یَعْمَلُوْنَ
السُّوْٓءَ
بِجَهَالَةٍ
ثُمَّ
یَتُوْبُوْنَ
مِنْ
قَرِیْبٍ
فَاُولٰٓىِٕكَ
یَتُوْبُ
اللّٰهُ
عَلَیْهِمْ ؕ
وَكَانَ
اللّٰهُ
عَلِیْمًا
حَكِیْمًا
۟
ہاں یہ جان لو کہ اللہ پر توبہ کی قبولیت کا حق انہی لوگوں کے لئے ہے جو نادانی کی وجہ سے برا فعل کر گزرتے ہیں اور اس کے بعد جلدی ہی توبہ کرلیتے ہیں ۔ ایسے لوگوں پر اللہ اپنی نظرعنایت سے پھر متوجہ ہوتا ہے ۔ اور اللہ ساری باتوں کی خبر رکھنے والا اور حکیم ودانا ہے ۔
تفسیر پڑھیں
تفسیر ابنِ کثیر
عالم نزع سے پہلے توبہ؟ ٭٭…
مطلب یہ ہے کہ اللہ سبحانہ و تعالیٰ اپنے ان بندوں کی توبہ قبول فرماتا ہے جو ناواقفیت کی وجہ سے کوئی برا کام کر بیٹھیں پھر توبہ کر لیں گو یہ توبہ فرشتہ موت کو دیکھ لینے کے بعد عالم نزع سے پہلے ہو، مجاہد رحمہ اللہ وغیرہ فرماتے ہیں جو بھی قصداً یا غلطی سے اللہ تعالیٰ کی نافرمانی
عالم نزع سے پہلے توبہ؟ ٭٭…
مطلب یہ ہے کہ اللہ سبحانہ و تعالیٰ اپنے ان بندوں کی توبہ قبول فرماتا ہے جو ناواقفیت کی وجہ سے کوئی برا کام کر بیٹھیں پھر توبہ