وَاِنِ
امْرَاَةٌ
خَافَتْ
مِنْ
بَعْلِهَا
نُشُوْزًا
اَوْ
اِعْرَاضًا
فَلَا
جُنَاحَ
عَلَیْهِمَاۤ
اَنْ
یُّصْلِحَا
بَیْنَهُمَا
صُلْحًا ؕ
وَالصُّلْحُ
خَیْرٌ ؕ
وَاُحْضِرَتِ
الْاَنْفُسُ
الشُّحَّ ؕ
وَاِنْ
تُحْسِنُوْا
وَتَتَّقُوْا
فَاِنَّ
اللّٰهَ
كَانَ
بِمَا
تَعْمَلُوْنَ
خَبِیْرًا
۟
اور اگر کسی عورت کو اپنے شوہر کی طرف سے بدسلوکی یا بے رخی کا اندیشہ ہو تو اس میں کوئی حرج نہیں کہ دونوں آپس میں کوئی صلح کرلیں اور صلح بہتر ہے اورحرص انسان کی طبیعت میں بسی ہوئی ہے اور اگر تم اچھا سلوک کرو اور خدا ترسی سے کام لو تو جو کچھ تم کرو گے، اللہ اس سے باخبر ہے
تفسیر پڑھیں
تفسیر ابنِ کثیر
میاں بیوی میں صلح و خیر کا اصول ٭٭…
اللہ تعالیٰ میاں بیوی کے حالات اور ان کے احکام بیان فرما رہا ہے کبھی مرد اس سے ناخوش ہو جاتا ہے کبھی چاہنے لگتا ہے اور کبھی الگ کر دیتا ہے۔ پس پہلی حالت میں جبکہ عورت کو اپنے شوہر کی ناراضگی کا خیال ہے اور اسے خوش کرنے کے لیے اپنے تمام حقوق سے یا کسی خاص حق سے وہ دس
میاں بیوی میں صلح و خیر کا اصول ٭٭…
اللہ تعالیٰ میاں بیوی کے حالات اور ان کے احکام بیان فرما رہا ہے کبھی مرد اس سے ناخوش ہو جاتا ہے کبھی چاہنے لگتا ہے ا