وَیَسْتَفْتُوْنَكَ
فِی
النِّسَآءِ ؕ
قُلِ
اللّٰهُ
یُفْتِیْكُمْ
فِیْهِنَّ ۙ
وَمَا
یُتْلٰی
عَلَیْكُمْ
فِی
الْكِتٰبِ
فِیْ
یَتٰمَی
النِّسَآءِ
الّٰتِیْ
لَا
تُؤْتُوْنَهُنَّ
مَا
كُتِبَ
لَهُنَّ
وَتَرْغَبُوْنَ
اَنْ
تَنْكِحُوْهُنَّ
وَالْمُسْتَضْعَفِیْنَ
مِنَ
الْوِلْدَانِ ۙ
وَاَنْ
تَقُوْمُوْا
لِلْیَتٰمٰی
بِالْقِسْطِ ؕ
وَمَا
تَفْعَلُوْا
مِنْ
خَیْرٍ
فَاِنَّ
اللّٰهَ
كَانَ
بِهٖ
عَلِیْمًا
۟
لو گ تم سے عورتوں کے معاملہ میں فتویٰ پوچھتے ہیں۔1 کہو اللہ تمہیں ان کے معاملہ میں فتویٰ دیتا ہے، اور ساتھ ہی وہ احکام بھی یاد دلاتا ہے جو پہلے سے تم اس کتاب میں سنائے جارہے ہیں۔2 یعنی وہ احکام جو ان یتیم لڑکیوں کے متعلق ہیں جن کے حق تم ادا نہیں کرتے3 اور جن کے نکاح کرنے سے تم باز رہتے ہو(یا لالچ کی بنا ء پر تم خود ان سے نکاح کر لینا چاہتے ہو)،4 اور وہ احکام جو ان بچّوں کے متعلق ہیں جو بیچارے کوئی زور نہیں رکھتے۔5 اللہ تمہیں ہدایت کرتا ہے کہ یتیموں کے ساتھ انصاف پر قائم رہو، جو بھلائی تم کرو گے وہ اللہ کے علم سے چھپی نہ رہ جائے گی
تفسیر پڑھیں
تفسیر ابنِ کثیر
یتیموں کے مربیوں کی گوشمالی اور منصفانہ احکام ٭٭…
صحیح بخاری شریف میں ہے عائشہ فرماتی ہے اس سے مراد وہ شخص ہے جس کی پرورش میں کوئی یتیم بچی ہو جس کا ولی وارث بھی وہی ہو مال میں شریک ہو گیا ہو اب چاہتا یہ ہو کہ اس یتیمہ سے میں نکاح کر لوں اس بنا پر اور جگہ اس کی شادی روکتا ہو ایسے شخص کے بارے میں یہ آ
یتیموں کے مربیوں کی گوشمالی اور منصفانہ احکام ٭٭…
صحیح بخاری شریف میں ہے عائشہ فرماتی ہے اس سے مراد وہ شخص ہے جس کی پرورش میں کوئی یتیم بچی ہو جس کا ول