النساء 4:114 ۞ لا خير في كثير من نجواهم الا من امر بصدقة او معروف او اصلاح بين الناس ومن يفعل ذالك ابتغاء مرضات الله فسوف نوتيه اجرا عظيما ١١٤
لَا
خَیْرَ
فِیْ
كَثِیْرٍ
مِّنْ
نَّجْوٰىهُمْ
اِلَّا
مَنْ
اَمَرَ
بِصَدَقَةٍ
اَوْ
مَعْرُوْفٍ
اَوْ
اِصْلَاحٍ
بَیْنَ
النَّاسِ ؕ
وَمَنْ
یَّفْعَلْ
ذٰلِكَ
ابْتِغَآءَ
مَرْضَاتِ
اللّٰهِ
فَسَوْفَ
نُؤْتِیْهِ
اَجْرًا
عَظِیْمًا
۟
ان لوگوں کی بہت سی مشورتیں اچھی نہیں ہاں (اس شخص کی مشورت اچھی ہوسکتی ہے) جو خیرات یا نیک بات یا لوگوں میں صلح کرنے کو کہے اور جو ایسے کام خدا کی خوشنودی حاصل کرنے کے لئے کرے گا تو ہم اس کو بڑا ثواب دیں گے
تفسیر پڑھیں
تفسیر ابنِ کثیر
اچھے کاموں کی دعوت اور برے کاموں سے روکنے کے علاوہ تمام باتیں قابل مواخذہ ہیں ٭٭…
لوگوں کے اکثر کلام بے معنی ہوتے ہیں سوائے ان کے جن کی باتوں کا مقصد دوسروں کی بھلائی اور لوگوں میں میل ملاپ کرانا ہو، سیدنا سفیان ثوری رضی اللہ عنہ کی عیادت کے لیے لوگ جاتے ہیں ان میں سعید بن حسان رحمہ اللہ بھی ہیں تو آپ
اچھے کاموں کی دعوت اور برے کاموں سے روکنے کے علاوہ تمام باتیں قابل مواخذہ ہیں ٭٭…
لوگوں کے اکثر کلام بے معنی ہوتے ہیں سوائے ان کے جن کی باتوں کا مقصد دو