النمل 27:82 ۞ واذا وقع القول عليهم اخرجنا لهم دابة من الارض تكلمهم ان الناس كانوا باياتنا لا يوقنون ٨٢
وَاِذَا
وَقَعَ
الْقَوْلُ
عَلَیْهِمْ
اَخْرَجْنَا
لَهُمْ
دَآبَّةً
مِّنَ
الْاَرْضِ
تُكَلِّمُهُمْ ۙ
اَنَّ
النَّاسَ
كَانُوْا
بِاٰیٰتِنَا
لَا
یُوْقِنُوْنَ
۟۠
Aur jab hamari baat poori hone ka waqt unpar aa pahunchega to hum unke liye ek jaanwar zameen se nikalenge jo unse kalaam karega ke log hamari aayat par yaqeen nahin karte thay
تفسیر پڑھیں
تفسیر ابنِ کثیر
دابتہ الارض ٭٭…
جس جانور کا یہاں ذکر ہے یہ لوگوں کے بالکل بگڑ جانے اور دین حق کو چھوڑ بیٹھنے کے وقت آخر زمانے میں ظاہر ہو گا۔ جب کہ لوگوں نے دین حق کو بدل دیا ہو گا۔ بعض کہتے ہیں یہ مکہ شریف سے نکلے گا بعض کہتے ہیں اور کسی جگہ سے جس کی تفصیل ابھی آئے گی ان شاءاللہ تعالیٰ۔ وہ بولے گا باتیں کرے گا اور ک
دابتہ الارض ٭٭…
جس جانور کا یہاں ذکر ہے یہ لوگوں کے بالکل بگڑ جانے اور دین حق کو چھوڑ بیٹھنے کے وقت آخر زمانے میں ظاہر ہو گا۔ جب کہ لوگوں نے دین حق کو ب