النحل 16:76 وضرب الله مثلا رجلين احدهما ابكم لا يقدر على شيء وهو كل على مولاه اينما يوجهه لا يات بخير هل يستوي هو ومن يامر بالعدل وهو على صراط مستقيم ٧٦
وَضَرَبَ
اللّٰهُ
مَثَلًا
رَّجُلَیْنِ
اَحَدُهُمَاۤ
اَبْكَمُ
لَا
یَقْدِرُ
عَلٰی
شَیْءٍ
وَّهُوَ
كَلٌّ
عَلٰی
مَوْلٰىهُ ۙ
اَیْنَمَا
یُوَجِّهْهُّ
لَا
یَاْتِ
بِخَیْرٍ ؕ
هَلْ
یَسْتَوِیْ
هُوَ ۙ
وَمَنْ
یَّاْمُرُ
بِالْعَدْلِ ۙ
وَهُوَ
عَلٰی
صِرَاطٍ
مُّسْتَقِیْمٍ
۟۠
اور خدا ایک اور مثال بیان فرماتا ہے کہ دو آدمی ہیں ایک اُن میں سے گونگا (اور دوسرے کی ملک) ہے (بےاختیار وناتوان) کہ کسی چیز پر قدرت نہیں رکھتا۔ اور اپنے مالک کو دوبھر ہو رہا ہے وہ جہاں اُسے بھیجتا ہے (خیر سے کبھی) بھلائی نہیں لاتا۔ کیا ایسا (گونگا بہرا) اور وہ شخص جو (سنتا بولتا اور) لوگوں کو انصاف کرنے کا حکم دیتا ہے اور خود سیدھے راستے پر چل رہا ہے دونوں برابر ہیں؟
تفسیر پڑھیں
تفسیر ابنِ کثیر
گونگے بت مشرکین کے معبود ٭٭…
ہو سکتا ہے کہ یہ مثال بھی اس فرق کے دکھانے کی ہو جو اللہ تعالیٰ میں اور مشرکین کے بتوں میں ہے۔ یہ بت گونگے ہیں نہ کلام کر سکیں نہ کوئی بھلی بات کہہ سکیں، نہ کسی چیز پر قدرت رکھیں۔ قول و فعل دونوں سے خالی۔ پھر محض بوجھ، اپنے مالک پر بار، کہیں بھی جائے کوئی بھلائی نہ لائے۔ پ
گونگے بت مشرکین کے معبود ٭٭…
ہو سکتا ہے کہ یہ مثال بھی اس فرق کے دکھانے کی ہو جو اللہ تعالیٰ میں اور مشرکین کے بتوں میں ہے۔ یہ بت گونگے ہیں نہ کلام کر س