النحل 16:27 ثم يوم القيامة يخزيهم ويقول اين شركايي الذين كنتم تشاقون فيهم قال الذين اوتوا العلم ان الخزي اليوم والسوء على الكافرين ٢٧
ثُمَّ
یَوْمَ
الْقِیٰمَةِ
یُخْزِیْهِمْ
وَیَقُوْلُ
اَیْنَ
شُرَكَآءِیَ
الَّذِیْنَ
كُنْتُمْ
تُشَآقُّوْنَ
فِیْهِمْ ؕ
قَالَ
الَّذِیْنَ
اُوْتُوا
الْعِلْمَ
اِنَّ
الْخِزْیَ
الْیَوْمَ
وَالسُّوْٓءَ
عَلَی
الْكٰفِرِیْنَ
۟ۙ
پھر قیامت کے روز اللہ انہیں ذلیل و خوار کرے گا۔ وہ اُن سے کہے گا”بتاوٴ اب کہاں ہیں میرے وہ شریک جن کےلیے تم (اہلِ حق سے)جھگڑے کیا کرتے تھے؟“۔۔۔۔ 1جن لوگوں کو دنیا میں علم حاصل تھا وہ کہیں گے”آج رُسوائی اور بدبختی ہے کافروں کے لیے۔“
تفسیر پڑھیں
تفسیر ابنِ کثیر
نمرود کا تذکرہ ٭٭…
بعض تو کہتے ہیں اس مکار سے مراد نمرود ہے جس نے بالاخانہ تیار کیا تھا۔ سب سے پہلے سب سے بڑی سرکشی اسی نے زمین میں کی۔ اللہ تعالیٰ نے اسے ہلاک کرنے کو ایک مچھر بھیجا جو اس کے نتھنے میں گھس گیا اور چار سو سال تک اس کا بھیجا چاٹتا رہا، اس مدت میں اسے اس وقت قدرے سکون معلوم ہوتا تھا جب ا
نمرود کا تذکرہ ٭٭…
بعض تو کہتے ہیں اس مکار سے مراد نمرود ہے جس نے بالاخانہ تیار کیا تھا۔ سب سے پہلے سب سے بڑی سرکشی اسی نے زمین میں کی۔ اللہ تعالیٰ نے ا