النحل 16:25 ليحملوا اوزارهم كاملة يوم القيامة ومن اوزار الذين يضلونهم بغير علم الا ساء ما يزرون ٢٥
لِیَحْمِلُوْۤا
اَوْزَارَهُمْ
كَامِلَةً
یَّوْمَ
الْقِیٰمَةِ ۙ
وَمِنْ
اَوْزَارِ
الَّذِیْنَ
یُضِلُّوْنَهُمْ
بِغَیْرِ
عِلْمٍ ؕ
اَلَا
سَآءَ
مَا
یَزِرُوْنَ
۟۠
یہ باتیں وہ اس لیے کرتے ہیں کہ قیامت کے روز اپنے بوجھ بھی پورے اٹھائیں، اور ساتھ ساتھ کچھ اُن لوگوں کے بوجھ بھی سمیٹیں جنہیں یہ بر بنائے جہالت گمراہ کر رہے ہیں دیکھو! کیسی سخت ذمہ داری ہے جو یہ اپنے سر لے رہے ہیں
تفسیر پڑھیں
تفسیر ابنِ کثیر
قرآن حکیم کے ارشادات کو دیرینہ کہنا کفر کی علامت ہے ٭٭…
ان منکرین قرآن سے جب سوال کیا جائے کہ کلام اللہ میں کیا نازل ہوا تو اصل جواب سے ہٹ کر بک دیتے ہیں کہ «وَقَالُوا أَسَاطِيرُ الْأَوَّلِينَ اكْتَتَبَهَا فَهِيَ تُمْلَىٰ عَلَيْهِ بُكْرَةً وَأَصِيلًا» [25-الفرقان:5] ” سوائے گزرے ہوئے افسانوں کے
قرآن حکیم کے ارشادات کو دیرینہ کہنا کفر کی علامت ہے ٭٭…
ان منکرین قرآن سے جب سوال کیا جائے کہ کلام اللہ میں کیا نازل ہوا تو اصل جواب سے ہٹ کر بک دیتے ہی