النحل 16:112 وضرب الله مثلا قرية كانت امنة مطمينة ياتيها رزقها رغدا من كل مكان فكفرت بانعم الله فاذاقها الله لباس الجوع والخوف بما كانوا يصنعون ١١٢
وَضَرَبَ
اللّٰهُ
مَثَلًا
قَرْیَةً
كَانَتْ
اٰمِنَةً
مُّطْمَىِٕنَّةً
یَّاْتِیْهَا
رِزْقُهَا
رَغَدًا
مِّنْ
كُلِّ
مَكَانٍ
فَكَفَرَتْ
بِاَنْعُمِ
اللّٰهِ
فَاَذَاقَهَا
اللّٰهُ
لِبَاسَ
الْجُوْعِ
وَالْخَوْفِ
بِمَا
كَانُوْا
یَصْنَعُوْنَ
۟
اور اللہ نے مثال بیان کی ہے ایک بستی کی جو بالکل امن و اطمینان کی حالت میں تھی آتا تھا اس کے پاس اس کا رزق با فراغت ہر طرف سے تو اس نے نا شکری کی اللہ کی نعمتوں کی تو اسے چکھا (پہنا) دیا اللہ نے لباس بھوک اور خوف کا ان کے کرتوتوں کی پاداش میں
تفسیر پڑھیں
تفسیر ابنِ کثیر
اللہ کی عظیم نعمت بعثت نبوی ہے ٭٭…
اس سے مراد اہل مکہ میں یہ امن و اطمینان میں تھے۔ آس پاس لڑائیاں ہوتیں، یہاں کوئی آنکھ بھر کر بھی نہ دیکھتا جو یہاں آ جاتا، امن میں سمجھا جاتا۔ جیسے قرآن نے فرمایا ہے کہ «وَقَالُوا إِنْ نَتَّبِعِ الْهُدَى مَعَكَ نُتَخَطَّفْ مِنْ أَرْضِنَا أَوَلَمْ نُمَكِّنْ لَهُمْ حَ
اللہ کی عظیم نعمت بعثت نبوی ہے ٭٭…
اس سے مراد اہل مکہ میں یہ امن و اطمینان میں تھے۔ آس پاس لڑائیاں ہوتیں، یہاں کوئی آنکھ بھر کر بھی نہ دیکھتا جو یہاں آ