آل عمران 3:99 قل يا اهل الكتاب لم تصدون عن سبيل الله من امن تبغونها عوجا وانتم شهداء وما الله بغافل عما تعملون ٩٩
قُلْ
یٰۤاَهْلَ
الْكِتٰبِ
لِمَ
تَصُدُّوْنَ
عَنْ
سَبِیْلِ
اللّٰهِ
مَنْ
اٰمَنَ
تَبْغُوْنَهَا
عِوَجًا
وَّاَنْتُمْ
شُهَدَآءُ ؕ
وَمَا
اللّٰهُ
بِغَافِلٍ
عَمَّا
تَعْمَلُوْنَ
۟
کہو اے اہل کتاب یہ تمہاری کیا روش ہے کہ جو اللہ کی بات مانتا ہے اسے تم بھی اللہ کے راستے سے روکتے ہو اور چاہتے ہو کہ وہ ٹیڑھی راہ چلے ‘ حالانکہ تم خود اس پر گواہ ہو ‘ تمہاری حرکتوں سے اللہ غافل نہیں ہے۔
تفسیر پڑھیں
تفسیر ابنِ کثیر
کافروں کا انجام ٭٭…
اہل کتاب کے کافروں کو اللہ تعالیٰ دھمکاتا ہے جو حق سے دشمنی کرتے اور اللہ تعالیٰ کی آیتوں سے کفر کرتے دوسرے لوگوں کو بھی پورے زور سے اسلام سے روکتے تھے باوجود یہ کہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی حقانیت کا انہیں یقینی علم تھا اگلے انبیاء اور رسولوں کی پیش گوئیاں اور ان کی بشارتیں ان
کافروں کا انجام ٭٭…
اہل کتاب کے کافروں کو اللہ تعالیٰ دھمکاتا ہے جو حق سے دشمنی کرتے اور اللہ تعالیٰ کی آیتوں سے کفر کرتے دوسرے لوگوں کو بھی پورے زور سے