آل عمران 3:93 ۞ كل الطعام كان حلا لبني اسراييل الا ما حرم اسراييل على نفسه من قبل ان تنزل التوراة قل فاتوا بالتوراة فاتلوها ان كنتم صادقين ٩٣
كُلُّ
الطَّعَامِ
كَانَ
حِلًّا
لِّبَنِیْۤ
اِسْرَآءِیْلَ
اِلَّا
مَا
حَرَّمَ
اِسْرَآءِیْلُ
عَلٰی
نَفْسِهٖ
مِنْ
قَبْلِ
اَنْ
تُنَزَّلَ
التَّوْرٰىةُ ؕ
قُلْ
فَاْتُوْا
بِالتَّوْرٰىةِ
فَاتْلُوْهَاۤ
اِنْ
كُنْتُمْ
صٰدِقِیْنَ
۟
کھانے کی یہ ساری چیزیں (جو شریعت محمدی میں حلال ہیں ) وہ بنی اسرائیل کے لئے بھی حلال تھیں ۔ البتہ بعض چیزیں ایسی تھیں جنہیں توراۃ کے نازل کئے جانے سے پہلے اسرائیل نے خود اپنے اوپر حرام کرلیا تھا۔ ان سے کہو ‘ اگر تم سچے ہو تو لاؤ توراۃ اور پیش کرو اس کی کوئی عبارت
تفسیر پڑھیں
تفسیر ابنِ کثیر
بارگاہ رسالت میں یہودی وفد ٭٭…
مسند احمد میں ہے کہ یہودیوں کی ایک جماعت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئی اور کہنے لگی کہ ہم آپ سے چند سوال کرنا چاہتے ہیں جن کے جواب نبیوں کے سوا اور کوئی نہیں آپ نے فرمایا پوچھو لیکن پہلے تم لوگ وعدہ کرو اگر میں صحیح صحیح جواب دے دوں تو تمہیں میری نبوت کے تسلیم
بارگاہ رسالت میں یہودی وفد ٭٭…
مسند احمد میں ہے کہ یہودیوں کی ایک جماعت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئی اور کہنے لگی کہ ہم آپ سے چند سوال کرنا