آل عمران 3:55 اذ قال الله يا عيسى اني متوفيك ورافعك الي ومطهرك من الذين كفروا وجاعل الذين اتبعوك فوق الذين كفروا الى يوم القيامة ثم الي مرجعكم فاحكم بينكم فيما كنتم فيه تختلفون ٥٥
اِذْ
قَالَ
اللّٰهُ
یٰعِیْسٰۤی
اِنِّیْ
مُتَوَفِّیْكَ
وَرَافِعُكَ
اِلَیَّ
وَمُطَهِّرُكَ
مِنَ
الَّذِیْنَ
كَفَرُوْا
وَجَاعِلُ
الَّذِیْنَ
اتَّبَعُوْكَ
فَوْقَ
الَّذِیْنَ
كَفَرُوْۤا
اِلٰی
یَوْمِ
الْقِیٰمَةِ ۚ
ثُمَّ
اِلَیَّ
مَرْجِعُكُمْ
فَاَحْكُمُ
بَیْنَكُمْ
فِیْمَا
كُنْتُمْ
فِیْهِ
تَخْتَلِفُوْنَ
۟
اس وقت خدا نے فرمایا کہ عیسیٰ! میں تمہاری دنیا میں رہنے کی مدت پوری کرکے تم کو اپنی طرف اٹھا لوں گا اور تمہیں کافروں (کی صحبت) سے پاک کر دوں گا اور جو لوگ تمہاری پیروی کریں گے ان کو کافروں پر قیامت تک فائق (وغالب) رکھوں گا پھر تم سب میرے پاس لوٹ کر آؤ گے تو جن باتوں میں تم اختلاف کرتے تھے اس دن تم میں ان کا فیصلہ کردوں گا
تفسیر پڑھیں
تفسیر ابنِ کثیر
اظہار خودمختاری ٭٭…
قتادہ رحمہ اللہ وغیرہ بعض مفسرین تو فرماتے ہیں مطلب یہ ہے کہ میں تجھے اپنی طرف اٹھا لوں گا پھر اس کے بعد تجھے فوت کروں گا، ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں یعنی میں تجھے مارنے والا ہوں، وہب بن منبہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں اللہ تعالیٰ نے آپ کو اٹھاتے وقت دن کے شروع میں تین ساعت تک فو
اظہار خودمختاری ٭٭…
قتادہ رحمہ اللہ وغیرہ بعض مفسرین تو فرماتے ہیں مطلب یہ ہے کہ میں تجھے اپنی طرف اٹھا لوں گا پھر اس کے بعد تجھے فوت کروں گا، ابن عباس