آل عمران 3:24 ذالك بانهم قالوا لن تمسنا النار الا اياما معدودات وغرهم في دينهم ما كانوا يفترون ٢٤
ذٰلِكَ
بِاَنَّهُمْ
قَالُوْا
لَنْ
تَمَسَّنَا
النَّارُ
اِلَّاۤ
اَیَّامًا
مَّعْدُوْدٰتٍ ۪
وَّغَرَّهُمْ
فِیْ
دِیْنِهِمْ
مَّا
كَانُوْا
یَفْتَرُوْنَ
۟
ان کا یہ طرز عمل اس وجہ سے ہے کہ وہ کہتے ہیں ۔ کہ آتش دوزخ تو ہمیں مس تک نہ کرے گی اور اگر دوزخ کی سزا ہم کو ملے گی بھی تو بس چند روز “ ان کے خودساختہ عقیدوں نے ان کو اپنے دین کے معاملے میں بڑی غلط فہمیوں میں ڈال رکھا ہے۔
تفسیر پڑھیں
تفسیر ابنِ کثیر
جھوٹے دعوے ٭٭…
یہاں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ یہ یہود و نصاریٰ اپنے اس دعوے میں بھی جھوٹے ہیں کہ ان کا توراۃ و انجیل پر ایمان ہے کیونکہ ان کتابوں کی ہدایت کے مطابق جب انہیں اس نبی آخرالزمان کی اطاعت کی طرف بلایا جاتا ہے تو یہ منہ پھیر کے بھاگتے دکھائی دیتے ہیں، اس سے ان کی اعلیٰ درجہ کی سرکشی تکبر اور
جھوٹے دعوے ٭٭…
یہاں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ یہ یہود و نصاریٰ اپنے اس دعوے میں بھی جھوٹے ہیں کہ ان کا توراۃ و انجیل پر ایمان ہے کیونکہ ان کتابوں کی ہدای