آل عمران 3:20 فان حاجوك فقل اسلمت وجهي لله ومن اتبعن وقل للذين اوتوا الكتاب والاميين ااسلمتم فان اسلموا فقد اهتدوا وان تولوا فانما عليك البلاغ والله بصير بالعباد ٢٠
فَاِنْ
حَآجُّوْكَ
فَقُلْ
اَسْلَمْتُ
وَجْهِیَ
لِلّٰهِ
وَمَنِ
اتَّبَعَنِ ؕ
وَقُلْ
لِّلَّذِیْنَ
اُوْتُوا
الْكِتٰبَ
وَالْاُمِّیّٖنَ
ءَاَسْلَمْتُمْ ؕ
فَاِنْ
اَسْلَمُوْا
فَقَدِ
اهْتَدَوْا ۚ
وَاِنْ
تَوَلَّوْا
فَاِنَّمَا
عَلَیْكَ
الْبَلٰغُ ؕ
وَاللّٰهُ
بَصِیْرٌ
بِالْعِبَادِ
۟۠
اب اگر یہ لوگ تم سے جھگڑا کریں ‘ تو ان سے کہو ۔ میں نے اور میرے پیروؤں نے تو اللہ کے آگے سرتسلیم خم کردیا ہے ۔ “ پھر اہل کتاب اور غیر اہل کتاب دونوں سے پوچھو۔ کیا تم نے بھی اس کی اطاعت اور بندگی قبول کی ۔ “ اگر کی تو راہ راست پاگئے۔ اور اگر اس سے منہ موڑا تو تم پر صرف پیغام پہنچادینے کی ذمہ داری تھی ۔ آگے خود اللہ اپنے بندوں کے معاملات دیکھنے والا ہے۔ “
تفسیر پڑھیں
تفسیر ابنِ کثیر
اللہ وحدہ لاشریک اپنی وحدت کا خود شاہد ٭٭…
اللہ تعالیٰ خود شہادت دیتا ہے بس اس کی شہادت کافی ہے وہ سب سے زیادہ سچا گواہ ہے، سب سے زیادہ سچی بات اسی کی ہے، وہ فرماتا ہے کہ تمام مخلوق اس کی غلام ہے اور اسی کی پیدا کی ہوئی ہے۔ اور اسی کی محتاج ہے، وہ سب سے بے نیاز ہے، الوہیت میں اللہ ہونے میں وہ یکتا اور
اللہ وحدہ لاشریک اپنی وحدت کا خود شاہد ٭٭…
اللہ تعالیٰ خود شہادت دیتا ہے بس اس کی شہادت کافی ہے وہ سب سے زیادہ سچا گواہ ہے، سب سے زیادہ سچی بات اسی کی ہ