آل عمران 3:183 الذين قالوا ان الله عهد الينا الا نومن لرسول حتى ياتينا بقربان تاكله النار قل قد جاءكم رسل من قبلي بالبينات وبالذي قلتم فلم قتلتموهم ان كنتم صادقين ١٨٣
اَلَّذِیْنَ
قَالُوْۤا
اِنَّ
اللّٰهَ
عَهِدَ
اِلَیْنَاۤ
اَلَّا
نُؤْمِنَ
لِرَسُوْلٍ
حَتّٰی
یَاْتِیَنَا
بِقُرْبَانٍ
تَاْكُلُهُ
النَّارُ ؕ
قُلْ
قَدْ
جَآءَكُمْ
رُسُلٌ
مِّنْ
قَبْلِیْ
بِالْبَیِّنٰتِ
وَبِالَّذِیْ
قُلْتُمْ
فَلِمَ
قَتَلْتُمُوْهُمْ
اِنْ
كُنْتُمْ
صٰدِقِیْنَ
۟
جو لوگ کہتے ہیں اللہ نے ہم کو ہدایت کردی ہے کہ ہم کسی رسول کو تسلیم نہ کریں جب تک وہ ہمارے سامنے ایسی قربانی نہ کرے جسے (غیب سے آکر) آگ کھالے ۔ “ ان سے کہو تمہارے پاس مجھ سے پہلے بہت سے رسول آچکے ہیں جو بہت سی روشن نشانیاں لائے تھے اور وہ نشانی بھی لائے تھے جس کا تم ذکر کرتے ہو ‘ پھر اگر (ایمان لانے کے لئے یہ شرط پیش کرنے میں ) تم سچے ہو تو ان رسولوں کو تم نے کیوں قتل کیا ؟
تفسیر پڑھیں
تفسیر ابنِ کثیر
کافروں کا قرض حسنہ پر احمقانہ تبصرہ اور ان کی ہٹ دھرمی پہ مجوزہ سزا ٭٭…
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ جب یہ آیت اتری «مَّن ذَا الَّذِي يُقْرِضُ اللَّـهَ قَرْضًا حَسَنًا فَيُضَاعِفَهُ لَهُ أَضْعَافًا كَثِيرَةً» [2-البقرة:245] کہ کون ہے جو اللہ کو قرض حسنہ دے اور وہ اسے زیادہ در زیادہ
کافروں کا قرض حسنہ پر احمقانہ تبصرہ اور ان کی ہٹ دھرمی پہ مجوزہ سزا ٭٭…
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ جب یہ آیت اتری «مَّن ذَا الَّذِي يُ