وَلَا
یَحْسَبَنَّ
الَّذِیْنَ
یَبْخَلُوْنَ
بِمَاۤ
اٰتٰىهُمُ
اللّٰهُ
مِنْ
فَضْلِهٖ
هُوَ
خَیْرًا
لَّهُمْ ؕ
بَلْ
هُوَ
شَرٌّ
لَّهُمْ ؕ
سَیُطَوَّقُوْنَ
مَا
بَخِلُوْا
بِهٖ
یَوْمَ
الْقِیٰمَةِ ؕ
وَلِلّٰهِ
مِیْرَاثُ
السَّمٰوٰتِ
وَالْاَرْضِ ؕ
وَاللّٰهُ
بِمَا
تَعْمَلُوْنَ
خَبِیْرٌ
۟۠
جن لوگوں کو اللہ نے اپنے فضل سے نوازا ہے اور پھر وہ بخل سے کام لیتےہیں وہ اس خیال میں نہ رہیں کہ یہ بخیلی ا ن کےلیے اچھی ہے۔ نہیں، یہ ان کے حق میں نہایت بری ہے۔ جو کچھ وہ اپنی کنجوسی سے جمع کررہے ہیں وہی قیامت کے روز ان کے گلے کا طوق بن جائے گا۔ زمین اور آسمانوں کی میراث اللہ ہی کے لیے ہے1 اور تم جو کچھ کرتے ہو اللہ اس سے باخبر ہے
تفسیر پڑھیں
تفسیر ابنِ کثیر
مشفق نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور عوام ٭٭…
چونکہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم لوگوں پر بے حد مشفق و مہربان تھے اس لیے کفار کی بے راہ روی آپ پر گراں گزرتی تھی وہ جوں جوں کفر کی جانب بڑھتے رہتے تھے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا دل غمزدہ ہوتا تھا اس لیے جناب باری آپ کو اس سے روکتا ہے اور فرم
مشفق نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور عوام ٭٭…
چونکہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم لوگوں پر بے حد مشفق و مہربان تھے اس لیے کفار کی بے راہ روی آپ پر