اَلَّذِیْنَ
قَالُوْۤا
اِنَّ
اللّٰهَ
عَهِدَ
اِلَیْنَاۤ
اَلَّا
نُؤْمِنَ
لِرَسُوْلٍ
حَتّٰی
یَاْتِیَنَا
بِقُرْبَانٍ
تَاْكُلُهُ
النَّارُ ؕ
قُلْ
قَدْ
جَآءَكُمْ
رُسُلٌ
مِّنْ
قَبْلِیْ
بِالْبَیِّنٰتِ
وَبِالَّذِیْ
قُلْتُمْ
فَلِمَ
قَتَلْتُمُوْهُمْ
اِنْ
كُنْتُمْ
صٰدِقِیْنَ
۟
جو لوگ کہتے ہیں”اللہ نےہم کو ہدایت کر دی ہے کہ ہم کسی کو رسول تسلیم نہ کریں جب تک وہ ہمارے سامنے ایسی قربانی نہ کرے جسے(غیب سے آکر) آگ کھا لے“، ان سے کہو ”تمہارے پاس مجھ سے پہلے بہت رسول آچکے ہیں جو بہت سی روشن نشانیاں لائے تھے اور وہ نشانی بھی لائے تھے جس کا تم ذکر کرتےہو ، پھر اگر (ایمان لانے کے لیے یہ شرط پیش کرنے میں) تم سچے ہو تو ان رسولوں کو تم نے کیوں قتل کیا؟“1
تفسیر پڑھیں
تفسیر ابنِ کثیر
کافروں کا قرض حسنہ پر احمقانہ تبصرہ اور ان کی ہٹ دھرمی پہ مجوزہ سزا ٭٭…
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ جب یہ آیت اتری «مَّن ذَا الَّذِي يُقْرِضُ اللَّـهَ قَرْضًا حَسَنًا فَيُضَاعِفَهُ لَهُ أَضْعَافًا كَثِيرَةً» [2-البقرة:245] کہ کون ہے جو اللہ کو قرض حسنہ دے اور وہ اسے زیادہ در زیادہ
کافروں کا قرض حسنہ پر احمقانہ تبصرہ اور ان کی ہٹ دھرمی پہ مجوزہ سزا ٭٭…
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ جب یہ آیت اتری «مَّن ذَا الَّذِي يُ