فَبِمَا
رَحْمَةٍ
مِّنَ
اللّٰهِ
لِنْتَ
لَهُمْ ۚ
وَلَوْ
كُنْتَ
فَظًّا
غَلِیْظَ
الْقَلْبِ
لَانْفَضُّوْا
مِنْ
حَوْلِكَ ۪
فَاعْفُ
عَنْهُمْ
وَاسْتَغْفِرْ
لَهُمْ
وَشَاوِرْهُمْ
فِی
الْاَمْرِ ۚ
فَاِذَا
عَزَمْتَ
فَتَوَكَّلْ
عَلَی
اللّٰهِ ؕ
اِنَّ
اللّٰهَ
یُحِبُّ
الْمُتَوَكِّلِیْنَ
۟
(اے نبی ﷺ یہ تو اللہ کی رحمت ہے کہ آپ ان کے حق میں بہت نرم ہیں اور اگر آپ ﷺ تندخو اور سخت دل ہوتے تو یہ آپ ﷺ کے ارد گرد سے منتشرہو جاتے پس آپ ان سے درگزر کریں اور ان کے لیے مغفرت طلب کریں اور معاملات میں ان سے مشورہ لیتے رہیں پھر جب آپ فیصلہ کرلیں تو اب اللہ پر توکل کریں یقیناً اللہ تعالیٰ توکل کرنے والوں کو پسند کرتا ہے
تفسیر پڑھیں
تفسیر ابنِ کثیر
اسوہ حسنہ کے مالک نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ٭٭…
اللہ تعالیٰ اپنے نبی پر اور مسلمانوں پر اپنا احسان جتاتا ہے کہ نبی کے ماننے والوں اور ان کی نافرمانی سے بچنے والوں کے لیے اللہ نے نبی کے دل کو نرم کر دیا ہے اگر اس کی رحمت نہ ہوتی تو اتنی نرمی اور آسانی نہ ہوتی، سیدنا قتادہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں «ما
اسوہ حسنہ کے مالک نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ٭٭…
اللہ تعالیٰ اپنے نبی پر اور مسلمانوں پر اپنا احسان جتاتا ہے کہ نبی کے ماننے والوں اور ان کی نافرمانی س