آل عمران 3:155 ان الذين تولوا منكم يوم التقى الجمعان انما استزلهم الشيطان ببعض ما كسبوا ولقد عفا الله عنهم ان الله غفور حليم ١٥٥
اِنَّ
الَّذِیْنَ
تَوَلَّوْا
مِنْكُمْ
یَوْمَ
الْتَقَی
الْجَمْعٰنِ ۙ
اِنَّمَا
اسْتَزَلَّهُمُ
الشَّیْطٰنُ
بِبَعْضِ
مَا
كَسَبُوْا ۚ
وَلَقَدْ
عَفَا
اللّٰهُ
عَنْهُمْ ؕ
اِنَّ
اللّٰهَ
غَفُوْرٌ
حَلِیْمٌ
۟۠
تم میں سے جو لوگ مقابلہ کے دن پیٹھ پھیرگئے تھے ان کی لغزش کا سبب یہ تھا کہ ان کی بعض کمزوریوں کی وجہ سے شیطان نے ان کے قدم ڈگمگاڈئیے تھے ۔ اللہ نے انہیں معاف کردیا ‘ اللہ بہت درگزر کرنے والا اور بردبار ہے۔
تفسیر پڑھیں
تفسیر ابنِ کثیر
تلواروں کے سایہ میں ایمان کی جانچ ٭٭…
اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں پر اس غم و رنج کے وقت جو احسان فرمایا تھا اس کا بیان ہو رہا ہے کہ اس نے ان پر اونگھ ڈال دی ہتھیار ہاتھ میں ہیں دشمن سامنے ہے لیکن دل میں اتنی تسکین ہے کہ آنکھیں اونگھ سے جھکی جا رہی ہیں جو امن و امان کا نشان ہے جیسے سورۃ الانفال میں بدر ک
تلواروں کے سایہ میں ایمان کی جانچ ٭٭…
اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں پر اس غم و رنج کے وقت جو احسان فرمایا تھا اس کا بیان ہو رہا ہے کہ اس نے ان پر اونگھ ڈال