القصص 28:82 واصبح الذين تمنوا مكانه بالامس يقولون ويكان الله يبسط الرزق لمن يشاء من عباده ويقدر لولا ان من الله علينا لخسف بنا ويكانه لا يفلح الكافرون ٨٢
وَاَصْبَحَ
الَّذِیْنَ
تَمَنَّوْا
مَكَانَهٗ
بِالْاَمْسِ
یَقُوْلُوْنَ
وَیْكَاَنَّ
اللّٰهَ
یَبْسُطُ
الرِّزْقَ
لِمَنْ
یَّشَآءُ
مِنْ
عِبَادِهٖ
وَیَقْدِرُ ۚ
لَوْلَاۤ
اَنْ
مَّنَّ
اللّٰهُ
عَلَیْنَا
لَخَسَفَ
بِنَا ؕ
وَیْكَاَنَّهٗ
لَا
یُفْلِحُ
الْكٰفِرُوْنَ
۟۠
اور وہ لوگ جو کل اُس کے رتبے کی تمنا کرتے تھے صبح کو کہنے لگے ہائے شامت! خدا ہی تو اپنے بندوں میں سے جس کے لئے چاہتا ہے رزق فراخ کر دیتا ہے اور (جس کے لئے چاہتا ہے) تنگ کر دیتا ہے۔ اگر خدا ہم پر احسان نہ کرتا تو ہمیں بھی دھنسا دیتا۔ ہائے خرابی! کافر نجات نہیں پا سکتے
تفسیر پڑھیں
تفسیر ابنِ کثیر
ایک بالشت کا آدمی؟ ٭٭…
اوپر قارون کی سرکشی بے ایمانی کا ذکر ہو چکا یہاں اس کے انجام کا بیان ہو رہا ہے۔ ایک حدیث میں ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ایک شخص اپنا تہبند لٹکائے فخر سے جا رہا تھا کہ اللہ نے زمین کو حکم دیا کہ اسے نگل جا ۔ [صحیح بخاری:5790]
کتاب العجائب میں نوفل بن مساح
ایک بالشت کا آدمی؟ ٭٭…
اوپر قارون کی سرکشی بے ایمانی کا ذکر ہو چکا یہاں اس کے انجام کا بیان ہو رہا ہے۔ ایک حدیث میں ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے