القصص 28:57 وقالوا ان نتبع الهدى معك نتخطف من ارضنا اولم نمكن لهم حرما امنا يجبى اليه ثمرات كل شيء رزقا من لدنا ولاكن اكثرهم لا يعلمون ٥٧
وَقَالُوْۤا
اِنْ
نَّتَّبِعِ
الْهُدٰی
مَعَكَ
نُتَخَطَّفْ
مِنْ
اَرْضِنَا ؕ
اَوَلَمْ
نُمَكِّنْ
لَّهُمْ
حَرَمًا
اٰمِنًا
یُّجْبٰۤی
اِلَیْهِ
ثَمَرٰتُ
كُلِّ
شَیْءٍ
رِّزْقًا
مِّنْ
لَّدُنَّا
وَلٰكِنَّ
اَكْثَرَهُمْ
لَا
یَعْلَمُوْنَ
۟
وہ کہتے ہیں ”اگر ہم تمہارے ساتھ اِس ہدایت کی پیروی اختیار کر لیں تو اپنی زمین سے اُچک لیے جائیں گے۔“1کیا یہ واقعہ نہیں ہے کہ ہم نے ایک پُر امن حرم کو ان کے لیے جائے قیام بنا دیا جس کی طرف ہر طرح کے ثمرات کھچے چلے آتے ہیں، ہماری طرف سے رزق کے طور پر؟ مگر ان میں سے اکثر لوگ جانتے نہیں ہیں۔2
تفسیر پڑھیں
تفسیر ابنِ کثیر
ہدایت صرف اللہ کے ذمہ ہے ٭٭…
” اے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کسی کا ہدایت قبول کرنا تمہارے قبضے کی چیز نہیں۔ آپ پر تو صرف پیغام اللہ کے پہنچادینے کا فریضہ ہے۔ ہدایت کا مالک اللہ ہے وہ اپنی حکمت کے ساتھ جسے چاہے قبول ہدایت کی توفیق بخشتا ہے “۔
جیسے فرمان ہے آیت «لَّيْسَ عَلَيْكَ هُدَاهُمْ وَلَـٰكِ
ہدایت صرف اللہ کے ذمہ ہے ٭٭…
” اے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کسی کا ہدایت قبول کرنا تمہارے قبضے کی چیز نہیں۔ آپ پر تو صرف پیغام اللہ کے پہنچادینے کا