القصص 28:55 واذا سمعوا اللغو اعرضوا عنه وقالوا لنا اعمالنا ولكم اعمالكم سلام عليكم لا نبتغي الجاهلين ٥٥
وَاِذَا
سَمِعُوا
اللَّغْوَ
اَعْرَضُوْا
عَنْهُ
وَقَالُوْا
لَنَاۤ
اَعْمَالُنَا
وَلَكُمْ
اَعْمَالُكُمْ ؗ
سَلٰمٌ
عَلَیْكُمْ ؗ
لَا
نَبْتَغِی
الْجٰهِلِیْنَ
۟
اور جب انہوں نے بیہودہ بات سُنی1 تو یہ کہہ کر اُس سے کنارہ کش ہوگئے کہ ”ہمارے اعمال ہمارے لیے اور تمہارے اعمال تمہارے لیے، تم کو سلام ہے، ہم جاہلوں کا سا طریقہ اختیار کرنا نہیں چاہتے۔“
تفسیر پڑھیں
تفسیر ابنِ کثیر
اہل کتاب علماء ٭٭…
اہل کتاب کے علماء درحقیقت اللہ کے دوست تھے ان کے پاکیزہ اوصاف بیان ہو رہے ہیں کہ وہ قرآن کو مانتے ہیں جیسے فرمان ہے «الَّذِينَ آتَيْنَاهُمُ الْكِتَابَ يَتْلُونَهُ حَقَّ تِلَاوَتِهِ أُولَـٰئِكَ يُؤْمِنُونَ بِهِ» [2-البقرة:121] ” جنہیں ہم نے کتاب دی ہے اور وہ سمجھ بوجھ کر پڑھتے
اہل کتاب علماء ٭٭…
اہل کتاب کے علماء درحقیقت اللہ کے دوست تھے ان کے پاکیزہ اوصاف بیان ہو رہے ہیں کہ وہ قرآن کو مانتے ہیں جیسے فرمان ہے «الَّذِينَ آتَيْ