القصص 28:36 فلما جاءهم موسى باياتنا بينات قالوا ما هاذا الا سحر مفترى وما سمعنا بهاذا في اباينا الاولين ٣٦
فَلَمَّا
جَآءَهُمْ
مُّوْسٰی
بِاٰیٰتِنَا
بَیِّنٰتٍ
قَالُوْا
مَا
هٰذَاۤ
اِلَّا
سِحْرٌ
مُّفْتَرًی
وَّمَا
سَمِعْنَا
بِهٰذَا
فِیْۤ
اٰبَآىِٕنَا
الْاَوَّلِیْنَ
۟
اور جب موسٰی اُن کے پاس ہماری کھلی نشانیاں لےکر آئے تو وہ کہنے لگے کہ یہ جادو ہے جو اُس نے بنا کھڑا کیا ہے اور یہ باتیں ہم نے اپنے اگلے باپ دادا میں تو (کبھی) سنی نہیں
تفسیر پڑھیں
تفسیر ابنِ کثیر
فرعونی قوم کا رویہ ٭٭…
حضرت موسیٰ علیہ السلام خلعت نبوت سے اور کلام الٰہی سے ممتاز ہو کر بحکم اللہ مصر میں پہنچے اور فرعون اور فرعونیوں کو اللہ کی وحدت اور اپنی رسالت کی تلقین کے ساتھ ہی جو معجزے اللہ نے دئیے تھے انہیں دکھایا۔ سب کو مع فرعون کے یقین کامل ہو گیا کہ بیشک موسیٰ علیہ السلام اللہ کے رسول ہ
فرعونی قوم کا رویہ ٭٭…
حضرت موسیٰ علیہ السلام خلعت نبوت سے اور کلام الٰہی سے ممتاز ہو کر بحکم اللہ مصر میں پہنچے اور فرعون اور فرعونیوں کو اللہ کی وحدت