القصص 28:35 قال سنشد عضدك باخيك ونجعل لكما سلطانا فلا يصلون اليكما باياتنا انتما ومن اتبعكما الغالبون ٣٥
قَالَ
سَنَشُدُّ
عَضُدَكَ
بِاَخِیْكَ
وَنَجْعَلُ
لَكُمَا
سُلْطٰنًا
فَلَا
یَصِلُوْنَ
اِلَیْكُمَا ۛۚ
بِاٰیٰتِنَاۤ ۛۚ
اَنْتُمَا
وَمَنِ
اتَّبَعَكُمَا
الْغٰلِبُوْنَ
۟
فرمایا”ہم تیرے بھائی کے ذریعہ سے تیرا ہاتھ مضبوط کریں گے اور تم دونوں کو ایسی سطوت بخشیں گے کہ وہ تمہارا کچھ نہ بگاڑ سکیں گے۔ ہماری نشانیوں کے زور سے غلبہ تمہارا اور تمہارے پیرووں کا ہی ہوگا۔“1
تفسیر پڑھیں
تفسیر ابنِ کثیر
یاد ماضی ٭٭…
یہ گزر چکاکہ موسیٰ علیہ السلام فرعون سے خوف کھا کر اس کے شہر سے بھاگ نکلے تھے۔ جب اللہ تعالیٰ نے وہیں اسی کے پاس نبی بن کر جانے کو فرمایا تو آپ علیہ السلام کو وہ سب یاد آ گیا اور عرض کرنے لگے ”اے اللہ ان کے ایک آدمی کی جان میرے ہاتھ سے نکل گئی تھی تو ایسانہ ہو کہ وہ بدلے کا نام رکھ کر میر
یاد ماضی ٭٭…
یہ گزر چکاکہ موسیٰ علیہ السلام فرعون سے خوف کھا کر اس کے شہر سے بھاگ نکلے تھے۔ جب اللہ تعالیٰ نے وہیں اسی کے پاس نبی بن کر جانے کو فرمایا ت