القصص 28:23 ولما ورد ماء مدين وجد عليه امة من الناس يسقون ووجد من دونهم امراتين تذودان قال ما خطبكما قالتا لا نسقي حتى يصدر الرعاء وابونا شيخ كبير ٢٣
وَلَمَّا
وَرَدَ
مَآءَ
مَدْیَنَ
وَجَدَ
عَلَیْهِ
اُمَّةً
مِّنَ
النَّاسِ
یَسْقُوْنَ ؗ۬
وَوَجَدَ
مِنْ
دُوْنِهِمُ
امْرَاَتَیْنِ
تَذُوْدٰنِ ۚ
قَالَ
مَا
خَطْبُكُمَا ؕ
قَالَتَا
لَا
نَسْقِیْ
حَتّٰی
یُصْدِرَ
الرِّعَآءُ ٚ
وَاَبُوْنَا
شَیْخٌ
كَبِیْرٌ
۟
اور جب وہ مَدیَن کے کنوئیں پر پہنچا1 تو اُس نے دیکھا کہ بہت سے لوگ اپنے جانوروں کو پانی پِلا رہے ہیں اور اُن سے الگ ایک طرف دو عورتیں اپنے جانوروں کو روک رہی ہیں۔موسیٰؑ نے ان عورتوں سے پوچھا”تمہیں کیا پریشانی ہے؟“ اُنہوں نے کہا”ہم اپنے جانوروں کو پانی نہیں پِلا سکتیں جب تک یہ چرواہے اپنے جانور نہ نکال لے جائیں، اور ہمارے والد ایک بہت بُوڑھے آدمی ہیں۔“2
تفسیر پڑھیں
تفسیر ابنِ کثیر
موسی علیہ السلام کا فرار ٭٭…
فرعون اور فرعونیوں کے ارادے جب اس شخص کی زبانی آپ علیہ السلام کو معلوم ہو گئے تو آپ علیہ السلام وہاں سے تن تنہا چپ چاپ نکل کھڑے ہوئے۔ چونکہ اس سے پہلے کی زندگی کے ایام آپ علیہ السلام کے شہزادوں کی طرح گزرے تھے سفر بہت کڑا معلوم ہوا لیکن خوف وہراس کے ساتھ ادھر ادھر دیکھتے س
موسی علیہ السلام کا فرار ٭٭…
فرعون اور فرعونیوں کے ارادے جب اس شخص کی زبانی آپ علیہ السلام کو معلوم ہو گئے تو آپ علیہ السلام وہاں سے تن تنہا چپ چاپ نکل