المؤمنون 23:27 فاوحينا اليه ان اصنع الفلك باعيننا ووحينا فاذا جاء امرنا وفار التنور فاسلك فيها من كل زوجين اثنين واهلك الا من سبق عليه القول منهم ولا تخاطبني في الذين ظلموا انهم مغرقون ٢٧
فَاَوْحَیْنَاۤ
اِلَیْهِ
اَنِ
اصْنَعِ
الْفُلْكَ
بِاَعْیُنِنَا
وَوَحْیِنَا
فَاِذَا
جَآءَ
اَمْرُنَا
وَفَارَ
التَّنُّوْرُ ۙ
فَاسْلُكْ
فِیْهَا
مِنْ
كُلٍّ
زَوْجَیْنِ
اثْنَیْنِ
وَاَهْلَكَ
اِلَّا
مَنْ
سَبَقَ
عَلَیْهِ
الْقَوْلُ
مِنْهُمْ ۚ
وَلَا
تُخَاطِبْنِیْ
فِی
الَّذِیْنَ
ظَلَمُوْا ۚ
اِنَّهُمْ
مُّغْرَقُوْنَ
۟
ہم نے اس پر وحی کی کہ ” ہماری نگرانی میں اور ہماری وحی کے مطابق کشتی تیار کر۔ پھر جب ہمارا حکم آجائے اور ور تنور ایل پڑے تو ہر قسم کے جانوروں میں سے ایک ایک جوڑا لے کر اس میں سوار ہوجا ، اور اپنے اہل عیال کو بھی ساتھ لے ، سوائے ان کے جن کے خلاف پہلے ہی فیصلہ ہوچکا ہے ، اور ظالموں کے بارے میں مجھ سے کچھ نہ کہنا ، یہ اب غرق ہونے والے ہیں۔
تفسیر پڑھیں
تفسیر ابنِ کثیر
نوح علیہ السلام کو کشتی بنانے کا حکم ٭٭…
جب نوح علیہ السلام ان سے تنگ آ گئے اور مایوس ہو گئے تو اللہ تعالیٰ سے دعا کی کہ «فَدَعَا رَبَّهُ أَنِّي مَغْلُوبٌ فَانتَصِرْ» [ 54-القمر: 10 ] میرے پروردگار میں لاچار ہو گیا ہوں میری مدد فرما۔ جھٹلانے والوں پر مجھے غالب کر اسی وقت فرمان الٰہی آیا کہ کشتی ب
نوح علیہ السلام کو کشتی بنانے کا حکم ٭٭…
جب نوح علیہ السلام ان سے تنگ آ گئے اور مایوس ہو گئے تو اللہ تعالیٰ سے دعا کی کہ «فَدَعَا رَبَّهُ أَنِّي مَغْلُ