المؤمنون 23:18 وانزلنا من السماء ماء بقدر فاسكناه في الارض وانا على ذهاب به لقادرون ١٨
وَاَنْزَلْنَا
مِنَ
السَّمَآءِ
مَآءً
بِقَدَرٍ
فَاَسْكَنّٰهُ
فِی
الْاَرْضِ ۖۗ
وَاِنَّا
عَلٰی
ذَهَابٍ
بِهٖ
لَقٰدِرُوْنَ
۟ۚ
” اور آسمان سے ہم نے ٹھیک حساب کے مطابق ایک خاص مقدار میں پانی اتارا اور اس کو زمین میں ٹھرا دیا ، ہم اسے جس طرح چاہیں غائب کرسکتے ہیں ۔
تفسیر پڑھیں
تفسیر ابنِ کثیر
آسمان سے نزول بارش ٭٭…
اللہ تعالیٰ کی یوں تو بےشمار اور ان گنت نعمتیں ہیں۔ لیکن چند بڑی بڑی نعمتوں کا یہاں ذکر ہو رہا ہے کہ وہ آسمان سے بقدر حاجت وضرورت بارش برساتا ہے۔ نہ تو بہت زیادہ کہ زمین خراب ہو جائے اور پیداوار گل سڑ جائے۔ نہ بہت کم کہ پھل اناج وغیرہ پیدا ہی نہ ہو۔ بلکہ اس اندازے سے کہ کھیتی سر
آسمان سے نزول بارش ٭٭…
اللہ تعالیٰ کی یوں تو بےشمار اور ان گنت نعمتیں ہیں۔ لیکن چند بڑی بڑی نعمتوں کا یہاں ذکر ہو رہا ہے کہ وہ آسمان سے بقدر حاجت وضرورت