المؤمنون 23:100 لعلي اعمل صالحا فيما تركت كلا انها كلمة هو قايلها ومن ورايهم برزخ الى يوم يبعثون ١٠٠
لَعَلِّیْۤ
اَعْمَلُ
صَالِحًا
فِیْمَا
تَرَكْتُ
كَلَّا ؕ
اِنَّهَا
كَلِمَةٌ
هُوَ
قَآىِٕلُهَا ؕ
وَمِنْ
وَّرَآىِٕهِمْ
بَرْزَخٌ
اِلٰی
یَوْمِ
یُبْعَثُوْنَ
۟
تاکہ میں اس میں جسے چھوڑ آیا ہوں نیک کام کیا کروں۔ ہرگز نہیں۔ یہ ایک ایسی بات ہے کہ وہ اسے زبان سے کہہ رہا ہوگا (اور اس کے ساتھ عمل نہیں ہوگا) اور اس کے پیچھے برزخ ہے (جہاں وہ) اس دن تک کہ (دوبارہ) اٹھائے جائیں گے، (رہیں گے)
تفسیر پڑھیں
تفسیر ابنِ کثیر
بعد از مرگ ٭٭…
بیان ہو رہا ہے کہ موت کے وقت کفار اور بدترین گناہگار سخت نادم ہوتے ہیں اور حسرت و افسوس کے ساتھ آرزو کرتے ہیں کہ کاش کہ ہم دنیا کی طرف لوٹائے جائیں۔ تاکہ ہم نیک اعمال کر لیں۔ لیکن اس وقت وہ امید فضول، یہ آرزو لا حاصل ہے چنانچہ سورۃ المنافقون میں فرمایا جو ہم نے دیا ہے ہماری راہ میں دیتے
بعد از مرگ ٭٭…
بیان ہو رہا ہے کہ موت کے وقت کفار اور بدترین گناہگار سخت نادم ہوتے ہیں اور حسرت و افسوس کے ساتھ آرزو کرتے ہیں کہ کاش کہ ہم دنیا کی طرف لو