وَلَقَدْ
زَیَّنَّا
السَّمَآءَ
الدُّنْیَا
بِمَصَابِیْحَ
وَجَعَلْنٰهَا
رُجُوْمًا
لِّلشَّیٰطِیْنِ
وَاَعْتَدْنَا
لَهُمْ
عَذَابَ
السَّعِیْرِ
۟
اور ہم نے قریب کے آسمان کو چراغوں سے سجایا ہےاور ہم نے ان کوشیطانوں کے مارنے کا ذریعہ بنایا ہےاور ہم نے ان کے لیے دوزخ کاعذاب تیار کر رکھا ہے
پڑھیں q-and-a.tafsir
Tafsir Ibn Kathir
باب…
تو فرمایا ” آسمان دنیا کو ہم نے ان قدرتی چراغوں یعنی ستاروں سے بارونق بنا رکھا ہے جن میں بعض چلنے پھرنے والے ہیں اور بعض ایک جا ٹھہرے رہنے والے ہیں “۔
پھر ان کا ایک اور فائدہ بیان ہو رہا ہے کہ ” ان سے شیطانوں کو مارا جاتا ہے ان میں سے شعلے نکل کر ان پر گرتے ہیں “ یہ نہیں کہ خود ستارہ ان پر ٹوٹے۔
باب…
تو فرمایا ” آسمان دنیا کو ہم نے ان قدرتی چراغوں یعنی ستاروں سے بارونق بنا رکھا ہے جن میں بعض چلنے پھرنے والے ہیں اور بعض ایک جا ٹھہرے رہنے والے ہیں