الملك 67:5 ولقد زينا السماء الدنيا بمصابيح وجعلناها رجوما للشياطين واعتدنا لهم عذاب السعير ٥
وَلَقَدْ
زَیَّنَّا
السَّمَآءَ
الدُّنْیَا
بِمَصَابِیْحَ
وَجَعَلْنٰهَا
رُجُوْمًا
لِّلشَّیٰطِیْنِ
وَاَعْتَدْنَا
لَهُمْ
عَذَابَ
السَّعِیْرِ
۟
Humne tumhare kareeb ke aasman ko azeem-o-shaan chiragon se aarasta (adorned /beautify) kiya hai aur unhein shayateen ko maar bhagane ka zariya bana diya hai. In shaytano ke liye bhadakti hui aag humne muhayya kar rakkhi hai
تفسیر پڑھیں
Tafsir Ibn Kathir
باب…
تو فرمایا ” آسمان دنیا کو ہم نے ان قدرتی چراغوں یعنی ستاروں سے بارونق بنا رکھا ہے جن میں بعض چلنے پھرنے والے ہیں اور بعض ایک جا ٹھہرے رہنے والے ہیں “۔
پھر ان کا ایک اور فائدہ بیان ہو رہا ہے کہ ” ان سے شیطانوں کو مارا جاتا ہے ان میں سے شعلے نکل کر ان پر گرتے ہیں “ یہ نہیں کہ خود ستارہ ان پر ٹوٹے۔
باب…
تو فرمایا ” آسمان دنیا کو ہم نے ان قدرتی چراغوں یعنی ستاروں سے بارونق بنا رکھا ہے جن میں بعض چلنے پھرنے والے ہیں اور بعض ایک جا ٹھہرے رہنے والے ہیں