اَلَمْ
تَرَ
اِلَی
الَّذِیْنَ
نُهُوْا
عَنِ
النَّجْوٰی
ثُمَّ
یَعُوْدُوْنَ
لِمَا
نُهُوْا
عَنْهُ
وَیَتَنٰجَوْنَ
بِالْاِثْمِ
وَالْعُدْوَانِ
وَمَعْصِیَتِ
الرَّسُوْلِ ؗ
وَاِذَا
جَآءُوْكَ
حَیَّوْكَ
بِمَا
لَمْ
یُحَیِّكَ
بِهِ
اللّٰهُ ۙ
وَیَقُوْلُوْنَ
فِیْۤ
اَنْفُسِهِمْ
لَوْلَا
یُعَذِّبُنَا
اللّٰهُ
بِمَا
نَقُوْلُ ؕ
حَسْبُهُمْ
جَهَنَّمُ ۚ
یَصْلَوْنَهَا ۚ
فَبِئْسَ
الْمَصِیْرُ
۟
کیا تم نے نہیں دیکھا جن کو سرگوشیوں سے روکاگیا تھا، پھر بھی وہ وہی کررہے ہیں جس سے وہ روکے گئے تھےاور وہ گناہ اور زیادتی اور رسول کی نافرمانی کی سرگوشیاں کرتے ہیں ، اور جب وہ تمھارے پاس آتے ہیں تو تم کو ایسے طریقہ سے سلام کرتے ہیں جس سے اللہ نے تم کو سلام نہیں کیا اوراپنے دلوں میں کہتے ہیں کہ ہماری ان باتوں پر اللہ ہم کوعذاب کیوں نہیں دیتا ان کے لیے جہنم ہی کافی ہے، وہ اس میں پڑیں گے، پس وہ براٹھکانا ہے
تفسیر پڑھیں
Tafsir Ibn Kathir
معاشرتی آداب کا ایک پہلو اور قیامت کا ایک منظر ٭٭…
کانا پھوسی سے یہودیوں کو روک دیا گیا تھا اس لیے کہ ان میں اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم میں جب صلح صفائی تھی تو یہ لوگ یہ حرکت کرنے لگے کہ جہاں کسی مسلمان کو دیکھا اور جہاں کوئی ان کے پاس گیا یہ ادھر ادھر جمع ہو ہو کر چپکے چپکے اشاروں کنایوں میں ا
معاشرتی آداب کا ایک پہلو اور قیامت کا ایک منظر ٭٭…
کانا پھوسی سے یہودیوں کو روک دیا گیا تھا اس لیے کہ ان میں اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم میں جب صل