یٰۤاَیُّهَا
الَّذِیْنَ
اٰمَنُوْۤا
اِذَا
تَنَاجَیْتُمْ
فَلَا
تَتَنَاجَوْا
بِالْاِثْمِ
وَالْعُدْوَانِ
وَمَعْصِیَتِ
الرَّسُوْلِ
وَتَنَاجَوْا
بِالْبِرِّ
وَالتَّقْوٰی ؕ
وَاتَّقُوا
اللّٰهَ
الَّذِیْۤ
اِلَیْهِ
تُحْشَرُوْنَ
۟
اے اہل ایمان ! اگر تمہیں کوئی سرگوشی کرنی ہو تو گناہ زیادتی اور رسول ﷺ کی نافرمانی کی باتوں سے متعلق ہرگز سرگوشی نہ کرو ہاں تم نیکی اور تقویٰ کے بارے میں سرگوشی کرسکتے ہو۔ اور اللہ سے ڈرتے رہو جس کی طرف تمہیں جمع کیا جائے گا۔
تفسیر پڑھیں
Tafsir Ibn Kathir
مومن کی سرگوشی ٭٭…
پھر اللہ تعالیٰ مومنوں کو ادب سکھاتا ہے کہ تم ان منافقوں اور یہودیوں کے سے کام نہ کرنا تم گناہ کے کاموں اور حد سے گزر جانے اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے نہ ماننے کے مشورے نہ کرنا بلکہ تمہیں ان کے برخلاف نیکی اور اپنے بچاؤ کے مشورے کرنے چاہئیں۔ تمہیں ہر وقت اس اللہ سے ڈرتے رہنا چاہ
مومن کی سرگوشی ٭٭…
پھر اللہ تعالیٰ مومنوں کو ادب سکھاتا ہے کہ تم ان منافقوں اور یہودیوں کے سے کام نہ کرنا تم گناہ کے کاموں اور حد سے گزر جانے اور نبی ص