المجادلة 58:4 فمن لم يجد فصيام شهرين متتابعين من قبل ان يتماسا فمن لم يستطع فاطعام ستين مسكينا ذالك لتومنوا بالله ورسوله وتلك حدود الله وللكافرين عذاب اليم ٤
فَمَنْ
لَّمْ
یَجِدْ
فَصِیَامُ
شَهْرَیْنِ
مُتَتَابِعَیْنِ
مِنْ
قَبْلِ
اَنْ
یَّتَمَآسَّا ۚ
فَمَنْ
لَّمْ
یَسْتَطِعْ
فَاِطْعَامُ
سِتِّیْنَ
مِسْكِیْنًا ؕ
ذٰلِكَ
لِتُؤْمِنُوْا
بِاللّٰهِ
وَرَسُوْلِهٖ ؕ
وَتِلْكَ
حُدُوْدُ
اللّٰهِ ؕ
وَلِلْكٰفِرِیْنَ
عَذَابٌ
اَلِیْمٌ
۟
اور جو شخص غلام نہ پائے وہ دو مہینے کے پے درپے روزے رکھے قبل اس کے کہ دونوں ایک دوسرے کو ہاتھ لگائیں۔ اور جو اس پر بھی قادر نہ ہو وہ ساٹھ (۶۰) مسکینوں کو کھانا کھلائے۔ 1 یہ حکم اِس لیے دیا جارہا ہے کہ تم اللہ اور اُس کے رسُول پر ایمان لاؤ۔2 یہ اللہ کی مقرر کی ہوئی حدیں ہیں، اور کافروں کے لیے دردناک سزا ہے۔ 3
تفسیر پڑھیں
Tafsir Ibn Kathir
ظہار کے احکام ٭٭…
سیدنا سلمہ بن صخر رضی اللہ عنہ کا واقعہ جو اب آ رہا ہے وہ اس کے اترنے کا باعث نہیں ہوا ہاں البتہ جو حکم ظہار ان آیتوں میں تھا انہیں بھی دیا گیا یعنی غلام آزاد کرنا یا روزے رکھنا یا کھانا دینا، سیدنا سلمہ بن صخر انصاری رضی اللہ عنہ کا واقعہ خود ان کی زبانی یہ ہے کہ مجھے جماع کی طاقت ا
ظہار کے احکام ٭٭…
سیدنا سلمہ بن صخر رضی اللہ عنہ کا واقعہ جو اب آ رہا ہے وہ اس کے اترنے کا باعث نہیں ہوا ہاں البتہ جو حکم ظہار ان آیتوں میں تھا انہیں بھ