المائدة 5:33 انما جزاء الذين يحاربون الله ورسوله ويسعون في الارض فسادا ان يقتلوا او يصلبوا او تقطع ايديهم وارجلهم من خلاف او ينفوا من الارض ذالك لهم خزي في الدنيا ولهم في الاخرة عذاب عظيم ٣٣
اِنَّمَا
جَزٰٓؤُا
الَّذِیْنَ
یُحَارِبُوْنَ
اللّٰهَ
وَرَسُوْلَهٗ
وَیَسْعَوْنَ
فِی
الْاَرْضِ
فَسَادًا
اَنْ
یُّقَتَّلُوْۤا
اَوْ
یُصَلَّبُوْۤا
اَوْ
تُقَطَّعَ
اَیْدِیْهِمْ
وَاَرْجُلُهُمْ
مِّنْ
خِلَافٍ
اَوْ
یُنْفَوْا
مِنَ
الْاَرْضِ ؕ
ذٰلِكَ
لَهُمْ
خِزْیٌ
فِی
الدُّنْیَا
وَلَهُمْ
فِی
الْاٰخِرَةِ
عَذَابٌ
عَظِیْمٌ
۟ۙ
(جو لوگ اللہ اور اس کے رسول سے لڑتے ہیں اور زمین میں اس لئے تگ ودو کرتے پھرتے ہیں کہ فساد برپا کریں ان کی سزا یہ ہے کہ قتل کئے جائیں ‘ یا سولی پر چڑھائے جائیں ‘ یا ان کے ہاتھ اور پاؤں مخالف سمتوں سے کاٹ ڈالے جائیں ‘ یا وہ جلا وطن کردیئے جائیں ۔ یہ ذلت ورسوائی تو ان کے لئے دنیا میں ہے اور آخرت میں ان کے لئے اس سے بڑی سزا ہے
تفسیر پڑھیں
Tafsir Ibn Kathir
فساد اور قتل و غارت گری ٭٭…
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ اہل کتاب کے ایک گروہ سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا معاہدہ ہوگیا تھا لیکن انہوں نے اسے توڑ دیا اور فساد مچا دیا۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو اختیار دیا کہ اگر آپ صلی اللہ علیہ وسلم چاہیں تو
فساد اور قتل و غارت گری ٭٭…
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ اہل کتاب کے ایک گروہ سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا معاہدہ ہوگیا تھا لیکن