المائدة 5:32 من اجل ذالك كتبنا على بني اسراييل انه من قتل نفسا بغير نفس او فساد في الارض فكانما قتل الناس جميعا ومن احياها فكانما احيا الناس جميعا ولقد جاءتهم رسلنا بالبينات ثم ان كثيرا منهم بعد ذالك في الارض لمسرفون ٣٢
مِنْ
اَجْلِ
ذٰلِكَ ؔۛۚ
كَتَبْنَا
عَلٰی
بَنِیْۤ
اِسْرَآءِیْلَ
اَنَّهٗ
مَنْ
قَتَلَ
نَفْسًا
بِغَیْرِ
نَفْسٍ
اَوْ
فَسَادٍ
فِی
الْاَرْضِ
فَكَاَنَّمَا
قَتَلَ
النَّاسَ
جَمِیْعًا ؕ
وَمَنْ
اَحْیَاهَا
فَكَاَنَّمَاۤ
اَحْیَا
النَّاسَ
جَمِیْعًا ؕ
وَلَقَدْ
جَآءَتْهُمْ
رُسُلُنَا
بِالْبَیِّنٰتِ ؗ
ثُمَّ
اِنَّ
كَثِیْرًا
مِّنْهُمْ
بَعْدَ
ذٰلِكَ
فِی
الْاَرْضِ
لَمُسْرِفُوْنَ
۟
اس قتل کی وجہ سے ہم نے بنی اسرائیل پر یہ حکم نازل کیا کہ جو شخص کسی کو (ناحق) قتل کرے گا (یعنی) بغیر اس کے کہ جان کا بدلہ لیا جائے یا ملک میں خرابی کرنے کی سزا دی جائے اُس نے گویا تمام لوگوں کو قتل کیا اور جو اس کی زندگانی کا موجب ہوا تو گویا تمام لوگوں کی زندگانی کا موجب ہوا اور ان لوگوں کے پاس ہمارے پیغمبر روشن دلیلیں لا چکے ہیں پھر اس کے بعد بھی ان سے بہت سے لوگ ملک میں حدِ اعتدال سے نکل جاتے ہیں
تفسیر پڑھیں
تفسیر ابنِ کثیر
ایک بےگناہ شخص کا قتل تمام انسانوں کا قتل ٭٭…
فرمان ہے کہ ” حضرت آدم علیہ السلام کے اس لڑکے کے قتل بے جا کی وجہ سے ہم نے بنی اسرائیل سے صاف فرما دیا ان کی کتاب میں لکھ دیا اور ان کیلئے اس حکم کو حکم شرعی کر دیا کہ ” جو شخص کسی ایک کو بلا وجہ مار ڈالے نہ اس نے کسی کو قتل کیا تھا نہ اس نے زمین میں فساد
ایک بےگناہ شخص کا قتل تمام انسانوں کا قتل ٭٭…
فرمان ہے کہ ” حضرت آدم علیہ السلام کے اس لڑکے کے قتل بے جا کی وجہ سے ہم نے بنی اسرائیل سے صاف فرما دیا ان