قَالَ
اللّٰهُ
هٰذَا
یَوْمُ
یَنْفَعُ
الصّٰدِقِیْنَ
صِدْقُهُمْ ؕ
لَهُمْ
جَنّٰتٌ
تَجْرِیْ
مِنْ
تَحْتِهَا
الْاَنْهٰرُ
خٰلِدِیْنَ
فِیْهَاۤ
اَبَدًا ؕ
رَضِیَ
اللّٰهُ
عَنْهُمْ
وَرَضُوْا
عَنْهُ ؕ
ذٰلِكَ
الْفَوْزُ
الْعَظِیْمُ
۟
تب اللہ فرمائے گا "یہ وہ دن ہے جس میں سچوں کو اُن کی سچائی نفع دیتی ہے، ان کے لیے ایسے باغ ہیں جن کے نیچے نہریں بہہ رہی ہیں، یہاں وہ ہمیشہ رہیں گے، اللہ ان سے راضی ہوا اور وہ اللہ سے، یہی بڑی کامیابی ہے"
تفسیر پڑھیں
تفسیر ابنِ کثیر
موحدین کے لیے خوش خبریاں ٭٭…
حضرت عیسیٰ ابن مریم علیہ السلام کو ان کی بات کا جو جواب قیامت کے دن ملے گا اس کا بیان ہو رہا ہے کہ ” آج کے دن موحدوں کو توحید نفع دے گی، وہ ہمیشگی والی جنت میں جائیں گے، وہ اللہ سے خوش ہوں گے اور اللہ ان سے خوش ہو گا، «وَرِضْوَانٌ مِّنَ اللَّـهِ أَكْبَرُ» [9-التوبة:72]
موحدین کے لیے خوش خبریاں ٭٭…
حضرت عیسیٰ ابن مریم علیہ السلام کو ان کی بات کا جو جواب قیامت کے دن ملے گا اس کا بیان ہو رہا ہے کہ ” آج کے دن موحدوں کو توح