وَاِذْ
قَالَ
اللّٰهُ
یٰعِیْسَی
ابْنَ
مَرْیَمَ
ءَاَنْتَ
قُلْتَ
لِلنَّاسِ
اتَّخِذُوْنِیْ
وَاُمِّیَ
اِلٰهَیْنِ
مِنْ
دُوْنِ
اللّٰهِ ؕ
قَالَ
سُبْحٰنَكَ
مَا
یَكُوْنُ
لِیْۤ
اَنْ
اَقُوْلَ
مَا
لَیْسَ
لِیْ ۗ
بِحَقٍّ ؔؕ
اِنْ
كُنْتُ
قُلْتُهٗ
فَقَدْ
عَلِمْتَهٗ ؕ
تَعْلَمُ
مَا
فِیْ
نَفْسِیْ
وَلَاۤ
اَعْلَمُ
مَا
فِیْ
نَفْسِكَ ؕ
اِنَّكَ
اَنْتَ
عَلَّامُ
الْغُیُوْبِ
۟
غرض جب (یہ احسانات یاد دلاکر) اللہ فرمائے گا کہ ”اے عیسٰی ؑ بن مریم ؑ ! کیا تُو نے لوگوں سے کہا تھا کہ خدا کے سوا مجھے اور میری ماں کو بھی خدا بنالو؟“1 تو وہ جواب میں عرض کرے گا ”سبحان اللہ! میرا یہ کام نہ تھا کہ وہ بات کہتا جس کے کہنے کا مجھے حق نہ تھا، اگر میں نے ایسی بات کہی ہوتی تو آپ کو ضرور علم ہوتا، آپ جانتے ہیں جو کچھ میرے دل میں ہے اور میں نہیں جانتا جو کچھ آپ کے دل میں ہے، آپ تو ساری پوشیدہ حقیقتوں کے عالم ہیں
تفسیر پڑھیں
تفسیر ابنِ کثیر
روز قیامت نصاریٰ کی شرمندگی ٭٭…
جن لوگوں نے مسیح پرستی یا مریم پرستی کی تھی، ان کی موجودگی میں قیامت کے دن اللہ تبارک و تعالیٰ عیسیٰ علیہ السلام سے سوال کرے گا کہ ” کیا تم ان لوگوں سے اپنی اور اپنی والدہ کی پوجا پاٹ کرنے کو کہہ آئے تھے؟ “ اس سوال سے مردود نصرانیوں کو ڈانٹ ڈپٹ کرنا اور ان پر غصے ہونا ہ
روز قیامت نصاریٰ کی شرمندگی ٭٭…
جن لوگوں نے مسیح پرستی یا مریم پرستی کی تھی، ان کی موجودگی میں قیامت کے دن اللہ تبارک و تعالیٰ عیسیٰ علیہ السلام سے سوال